سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 536
478 داستان طویل اور لذیذ ہے مگر میں اس سفر کے ایک دو واقعات لکھنا چاہتا ہوں مجھے حضرت کے ساتھ پہلے بھی سفروں کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے اس خُلق عظیم کا مشاہدہ کیا ہے کہ سفر میں آپ اپنے رفقاء کے آرام اور آسائش کو اپنی ذات پر ہمیشہ مقدم کرتے ہیں۔پرانے واقعات کے تذکرے کا یہ مقام نہیں لیکن یہاں تازہ ترین اور اس سفر کے تازہ ترین واقعات کا ذکر مدنظر ہے اور اس میں سے بھی صرف دو۔پورٹ سعید کے کسٹم ہاؤس میں۔پورٹ سعید میں ہم رات کو اُترے تھے اور سب سے پہلا کام ساحل پر اتر کر ہمیں جو کرنا پڑا وہ قرنطینہ کے دفتر میں ٹیکس صحت ادا کرنا تھا اور وہاں سے کسٹم ہاؤس میں جانا تھا ٹیکس صحت تو صرف رو پید ادا کرنے تک محدود تھا مگر کٹم ہاؤس اچھا خاصا دارالامتحان تھا۔سمندر کے تکلیف دہ پندرہ روزہ سفر کے بعد جب ہم نے سطح زمین پر قدم رکھا تو قدرتی طور پر طبیعت آرام کے لئے بے قرار تھی مگر کسٹم ہاؤس میں ایک کثیر التعداد مسافروں کے سامان کو دیکھنا اور پڑتال کرنا تھا کہ ان میں کوئی چیز قابل محصول اور ممنوع الداخلہ تو نہیں ہے اور اس غرض کے لئے بہت دیر تک وہاں ٹھہر نا پڑتا ہے۔یہاں تک کہ آدمیوں اور عورتوں کی تلاشی بھی ہوتی ہے۔ہم سب کو بالطبع یہ امر تکلیف دہ معلوم ہوتا تھا کہ حضرت انتظار میں کھڑے تکلیف اُٹھائیں چنانچہ خانصاحب نے عرض کیا کہ حضور تشریف لے جاویں مگر آپ نے فرمایا میں سب کو ساتھ لے کر جاؤ نگا ان الفاظ میں اپنے خدام کے ساتھ محبت اور شفقت کا جواثر ہے وہ قلب سے نکل کر قلب پر ہی پڑتا ہے خدام چاہتے ہیں کہ آپ جا کر آرام کریں مگر آپ کو اس وقت تک آرام آ ہی نہیں سکتا جب تک کہ آپ کے خدام بھی آرام نہ کریں۔ماں کی محبت اور مامتا ایک ضرب المثل ہے مگر جو محبت امام کو اپنی جماعت کے ہر فرد سے ہوتی ہے دنیا کی کوئی محبت اور مامتا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اس لئے کہ اس کی محبت دنیا کے تمام رشتوں سے بڑھ کر ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب تک ہم بھی دنیا کے تمام رشتوں سے بڑھ کر اس سے محبت نہ کریں ہم بھی ایمان میں کامل نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔۔فرض نہ ایک بار بلکہ