سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 502 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 502

444 پیدا ہوئی تھی تو مجھ سے نام رکھوایا تھا اور اس بات کے لئے بہت زیادہ اصرار کیا تھا۔کہ میں اس کی درازی عمر کے لئے دعا کروں کیونکہ اس سے پہلے ان کی بہت سی اولاد وفات پا چکی تھی اور یہ بتلایا تھا کہ مجھے اس بات کا اس وجہ سے زیادہ ڈر ہے کیونکہ میں نے سورۃ آل عمران پڑھنے کے بعد پیدائش سے پہلے وقف کر دیا تھا اور میرا بھی کچھ وہی حال ہے جو عمران کی اس عورت کا ہوا تھا کیونکہ میں نے بھی نذر مانی تھی اور یہ لڑکی پیدا ہوئی۔پھر حضور نے فرمایا کہ اسی لئے میں نے اس کا نام ناصرہ رکھا تھا اسے دیکھتے ہی مجھے اس کے باپ کا یہ واقعہ یاد آ جاتا ہے۔پھر حضور نے فرمایا کہ جس کے ساتھ اس کا بیاہ ہوا ہے۔میں اسے بھی خوب جانتا ہوں۔مولوی قدرت اللہ صاحب اس کو جب کہ وہ میٹرک کر چکا تھا میرے پاس لائے میں نے اسے منور آبا دا سٹیٹ میں لگایا تھا۔اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں اس مصلح موعود پر جس نے اپنی بے نظیر خوبیوں کی وجہ سے احمدیت کو چار چاند لگائے اور اسے دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کے لئے اپنی زندگی کی بازی لگا دی۔ے صرف کر ڈالیں خدا کی راہ میں سب طاقتیں جان کی بازی لگا دی قول پر ہارا نہیں حضور اہم جماعتی امور کی سرانجام دہی کے لئے بیرونی جماعتوں میں تشریف لے جاتے تو ہر جگہ ہی ایثار و اخلاص اور قربانی کے شاندار نظارے نظر آتے۔دہلی کی جماعت کے اخلاص و محبت کی تعریف کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: ” جماعت دہلی نے جس مہمان نوازی کا نمونہ دکھایا ہے گوا سے مکمل نہ کہا جا سکے۔مگر یقیناً وہ دوسری جماعتوں کے لئے نمونہ ہے۔ہماری مہمان نوازی چوہدری شاہنواز صاحب نے کی جس میں ان کی اہلیہ صاحبہ کا بہت سا حصہ ہے۔فَجَزَاهَا اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔باقی ساتھیوں اور مہمانوں کی مہمان نوازی تین ہفتے متواتر جماعت احمد یہ دہلی نے کی اور بعض لوگ تو رات دن کام پر رہے اور بعض دوست کھانا کھلانے کے لئے اکثر آتے رہے مثلاً با بو عبدالحمید صاحب