سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 501 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 501

443 بحیثیت خلیفہ اس بات کا حقدار ہوں کہ اپنی ولایت میں نکاح کا اعلان کروں۔۵۔فروری ۱۹۴۲ء کو بعد نماز عصر حضور نے یہ نکاح پڑھا اور خطبہ نکاح میں یتامیٰ کے حقوق کے متعلق بہت سی نصائح فرمائیں۔اس کے بعد ۱۱ مئی ۱۹۴۲ء کو رخصتی عمل میں آئی میرے ماموں صاحب نے تو حضور کو اطلاع نہیں کی تھی مگر حضرت ام ناصر احمد صاحبہ کی بدولت حضور کو علم ہوا کہ آج رخصتی ہے۔لہذا حضور اُمّم ناصر احمد صاحبہ، اُمّم طاہر احمد صاحبہ، حضرت پر اماں جان ) اور تین صاحبزادیوں کے ساتھ بغیر اطلاع ہمارے مکان تشریف لے آئے اور فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ نکاح میں نے اپنی ولایت میں کیا ہوا ہے۔میرا پہنچنا ضروری تھا۔اور حکم دیا کہ لڑکی کو میرے پاس لاؤ۔حضور ہمارے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے اور وہیں خورشید صاحب کو بھی بلوا لیا۔پھر حضور پر نور نے میرے سر پر اپنا دست مبارک رکھا اور نصائح فرماتے رہے۔حضور نے خورشید صاحب کو بھی فرمایا کہ یہ میری بیٹی ہے اس کا خیال رکھنا۔اس تمام عرصہ میں حضور کا دست مبارک میرے سر پر ہی تھا۔حضور کھڑے تھے میں بھی حضور کی خدمت میں کھڑی تھی۔حضرت صاحب کی تشریف آوری کا سن کر محلہ کے لوگ اسقدر جمع ہو گئے تھے جیسے کہ کسی جلسہ کے موقع پر لوگ جمع ہوتے ہیں۔حضور نصائح کے ساتھ بعض ہنسانے اور دل بہلانے والی باتیں بھی کرتے رہے۔یہ پاکیزہ اور روحانی نظارہ کافی عرصہ تک جاری رہنے کے بعد طویل دُعا پر ختم ہوا۔اور دُعا کروانے کے بعد حضور واپس تشریف لے گئے۔ملت کے اس فدائی رحمت خدا کرے اور اس کے بعد بھی میں جب قادیان جاتی حضور دریافت فرماتے کہ تمہارے سسرال والے تم سے کیسا سلوک کرتے ہیں۔۱۹۵۵ء میں جبکہ ہم لا ہو ر رہتے تھے میں رتن باغ میں حضور کی خدمت میں ملنے کے لئے گئی۔حضرت اُمم ناصر احمد صاحبہ حضور کے پاس تھیں وہ میرا تعارف کروانے لگیں تو حضور نے فرمایا تم رہنے دو میں تم سے زیادہ اسے جانتا ہوں۔اس کا نام تو میں نے ہی رکھا ہے۔اس سے پوچھ کر دیکھ لو اس کا نام ناصرہ ہے اور اس کے باپ نے جب یہ