سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 498
440 نومبر ۱۹۶۲ء میں میری والدہ محترمہ رحیمن صاحبہ (صحابیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) کی وفات کے وقت حضور صاحب فراش تھے۔حضور نے والدہ صاحبہ کی وفات کی خبر ملنے پر قبلہ والد صاحب کو، مجھے اور میرے بھائی محمود احمد صاحب کو قصرِ خلافت میں طلب فرمایا اور باوجود بیماری، تکلیف اور نقاہت کے شرف ملاقات بخشا اور اظہار تعزیت فرمایا اور فرمایا کہ یہ وہی مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری ہیں جن کے سجدوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے سندھ میں ہماری زمینوں کی پیداوار بڑھائی تھی۔حضور نے ہمیں دلاسہ دیا اور پیار محبت سے باتیں کرتے رہے اور ہمارے نانا جان کا بھی تذکرہ فرمایا اور حضور کی چشم مبارک پر نم ہوگئیں محترمہ بیگم مسعود احمد خورشید صاحبہ بچوں کے ساتھ شفقت و پیار اور تائی کی خبر گیری کی خوشگوار یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں :- ” میرے والد عبد الغفور صاحب پوسٹ ماسٹر عموماً ایبٹ آباد یا اس کے نزدیکی علاقوں میں ملازمت کرتے تھے۔اور سری نگر سے حضرت (اماں جان) کے لئے اور حضرت مصلح موعود کے لئے فروٹ مثلاً سیب، ناشپاتی ، آڑو، خرمانی وغیرہ بھجوانے کا انتظام کیا کرتے تھے۔ہمیں والد صاحب نے تعلیم کے لئے قادیان بھجوایا ہوا تھا۔اور ان کی خواہش ہوتی تھی ، ہم جب بھی حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہوں تو کچھ نہ کچھ نذرانہ ضرور لے کر جائیں۔اس غرض کے لئے والد صاحب فروٹ کی بلٹیاں میرے نام پر بھجواتے اور میں اپنے ماموں محترم منشی نور محمد صاحب کے ہمراہ بلٹیاں چھڑا کر وہ ٹوکرے یا بیٹیاں ہمراہ لے جایا کرتی تھی۔جب ہم حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوتے تو حضور فرماتے ٹھہرو ہم اس بیٹی کو کھول کر دیکھیں گے اور پھر مسکراتے ہوئے مجھے فرماتے کہ اگر مال خراب ہوگا تو وہ تمہارا ہو گا۔بیٹی کو کھول کر اس میں سے پھل نکال کر رومال سے صاف کر کے تناول فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ اپنے والد صاحب کو لکھ دینا کہ میں نے تمہارے سامنے کھا لیا تھا اور بہت اچھا تھا۔اسی طرح ایک مرتبہ