سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 497 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 497

439 ) مندرجہ بالا خط میرے پاس محفوظ ہے) اس وقت حضور باوجود ناسازی طبع کے کمال شفقت سے مکرم خواجہ کمال الدین صاحب کی نواسی کی شادی میں شمولیت کے لئے ربوہ سے لاہور تشریف لے گئے تھے۔چنانچہ راستہ میں حضور طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے پچھلی سیٹ پر کچھ وقت کے لئے لیٹ بھی گئے تھے۔اور آپ کی دو حرم۔حضرت سیدہ اُئِم ناصر احمد صاحبہ اور سیدہ مہر آپا صاحبہ جو حضور کے ساتھ تھیں وہ آپ کے پاس بیٹھی تھیں آدھا راستہ موٹر کار چلانے کا خاکسار کو شرف حاصل ہوا اور آدھا راستہ میرے برادر نسبتی عزیزم عبد الحئی صاحب نے موٹر چلائی اور حضور کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا شرف حاصل ہوا اگلی سیٹ پر مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب مرحوم اور حضور کے باڈی گارڈ مکرم چیمہ صاحب تھے۔حضور راستہ میں کئی مرتبہ گفتگو فرماتے رہے۔کراچی میں حضور کی آمد پر کئی مرتبہ خاکسار کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حضور میری موٹر میں سوار ہوئے اور میں خود موٹر چلاتا تھا۔حضور لمبے سفر سے آنے کے باوجود سٹیشن پر جماعت کے دوستوں سے مصافحہ فرماتے جو کہ لمبی لمبی قطاروں میں استقبال کے لئے کھڑے ہوتے۔اس کے بعد حضور سامان وغیرہ اور قافلہ کے ہمراہیان کے انتظامات مکمل ہو جانے کے بعد موٹر میں سوار ہوتے اور جب قیام گاہ پر تشریف لاتے تو کمال محبت اور خندہ پیشانی سے یہاں پر آنے والے دوستوں سے ملاقات فرما کر اندر تشریف لے جاتے۔۱۹۵۹ء میں جب حضور کراچی تشریف لائے اور مکرم چوہدری عبد اللہ خان صاحب ( برادر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ) امیر جماعت احمدیہ کراچی کی وفات کا علم ہوا۔تو میں نے خود حضور کو چوہدری صاحب موصوف کی وفات سے غمزدہ اور چشم پر آب دیکھا۔اللہ اللہ ! حضور کو اپنے خدام اور جماعت کے خدمت گزاروں سے کس قدر محبت تھی۔اسی طرح جب حضور ربوہ میں بیمار تھے ان ایام میں جب کبھی خاکسار ملاقات کو جاتا تو بعض اوقات حضور ہمارے نانا جان چوہدری کریم بخش صاحب صحابی نمبر دار رائے پور ریاست نابھہ کا ذکر فرماتے ہوئے چشم پر آب ہو جایا کرتے تھے۔