سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 484 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 484

426 پاس پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھنے کا ارشاد فرمایا۔اُس وقت میری عجیب کیفیت تھی پھر خیال آیا کہ تعمیل ارشاد بھی ضروری ہے۔حضور تو اخلاق فاضلہ کے پیش نظر مہمان کو بٹھا کر ہی خود تشریف فرما ہوں گے۔اس خیال کے آتے ہی بندہ ہیچمدان فوراً کرسی پر بیٹھ گیا تا کہ حضور کو مزید کھڑا رہنے کی تکلیف نہ ہو۔چنانچہ حضور پر نور بھی کرسی پر تشریف فرما ہو گئے۔میں نے اپنی ایک خواہش کے پورا ہونے کے لئے دعا کی درخواست کی تو حضور نے نہایت ہمدردی سے مجھے تسلی دی اور دعا کا وعدہ کیا اور محبت سے بعض اور باتیں دریافت فرمائیں۔میں بچپن سے یتیم اور بے نوا تھا مگر اس وقت مجھے ایسی تسلی ہوئی کہ یقین ہو گیا کہ ہمارا سر پرست زندہ ہے ہمیں کیا فکر ہے کچھ عرصہ کے بعد واقعی میرے حالات کافی بدل گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی بہت بارش ہوئی۔اور دم بدم ہو رہی ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ یہ یقینا حضور کی چشم کرم کا نتیجہ ہے۔اللہ کریم حضور کو اپنے قُرب کے خاص مقام میں جگہ عطا فرما کر ترقی پر ترقی دے آمین اور ہمیں حضور کی خواہشات کو جو خدمت اسلام کے متعلق ہیں پورا کرنے کی توفیق بخشے۔امِینَ مکرم چوہدری ظفر اسلام صاحب کو حضور کی نگرانی میں مختلف جماعتی کام کرنے کی سعادت حاصل تھی وہ حضور کے حسن و احسان کی تصویر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔جماعت احمد یہ بار ہا مہیب خطرات کے نرغہ میں اپنوں اور دشمنوں کے نزدیک گھری ہوئی نظر آتی تھی دشمن خوش ہو رہا تھا کہ اب اس کمز ور و حقیر قوم کی کشتی تیز و تند باد مخالف میں مخالفت کے پہاڑ سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے گی۔مگر تھوڑے وقفہ بعد دشمن دنگ اور ششدر رہ گیا اور دانت پینے لگا یہ دیکھ کر کہ اس کشتی کا ناخدا خدا داد قوت عزم وقد بر اور خدا کی طرف سے عظیم الشان تا ئید ونصرت کے ساتھ اس شکستہ ناؤ کو صحیح سلامت لے کر ساحلِ مراد پر لے پہنچا ہے دنیا ہر دفعہ محو حیرت ہوتی۔جماعت نے سینکڑوں بار اس ناخدائے ملت اس مرد کامل کے آہنی عزم اس کے بے مثل تدبر و تفکر اور تعلق باللہ کے مشاہدے کئے۔