سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 442 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 442

399 کہ حضور کے ارشاد کی پوری تعمیل ہو گئی اور حضور کے صاحبزادگان نے بھی حضور کی اس ہدایت کو ملحوظ رکھ کر کھانا اپنے ہاتھ سے پکانے کا فیصلہ کیا۔روٹی بازار سے لے لی جاتی تھی۔اللہ تعالیٰ نے مکان کو جو سیزن کے لئے لیا گیا تھا اس کو بقیہ عرصہ میں Sublet کرنے کا موقع عطا فرمایا اور کچھ رقم واپس مل گئی۔حضور کی ہدایت کے بموجب ہفتہ میں کم از کم دو بار حضور کی خدمت میں بچوں کے حالات سے اطلاع بھجوائی جاتی رہی۔قادیان میں حضور نے ایک بچے کے متعلق خاکسار کو مسجد مبارک میں بُلا کر ارشاد فرمایا ان کو بورڈ نگ تحریک جدید میں ابھی لیجا کر داخل کر دیا جاوے اور ہدایت فرمائی کہ بغیر میری اجازت کے گھر نہ آئیں۔حضور اس ہدایت کے دینے کے بعد مکان کے اندر تشریف لے گئے اور بچے کو میرے حوالہ کیا۔اسی وقت بچے نے مجھے کہا کہ اس کا بستر کھلا ہے وہ اسے سمیٹ کر آ جاتے ہیں۔وہ اندر گئے ہی تھے کہ حضور پھر باہر تشریف لائے کہ اب جو بچہ اندر آیا ہے تو کیا میری اجازت سے آیا ہے؟ خاکسار کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو معافی مانگی حضور نے فرمایا کہ میرے حکم کے بعد خواہ ایک منٹ کے لئے ہی ضرورت ہو مجھ سے اجازت لے کر اندر بھجوانا چاہئے تھا۔حضور انتظامی معاملات میں ارشاد کی پوری حدود کے ماتحت پابندی کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ازواج و اولا د حضرت فضل عمر حضرت سیدہ محمودہ خاتون ام نا صر صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نکاح اکتوبر ۱۹۰۲ ء وفات ۳۱۔جولائی ۱۹۵۸ء حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ( خلیفتہ المسیح الثالث ) ولادت ۱۶۔نومبر ۱۹۰۹ ء وفات ۹۔جون ۱۹۸۲ء۔محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ۴۔ولادت ۱۹۱۱ء ولادت ۹۔مئی ۱۹۱۴ء مکرم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب ولادت یکم فروی ۱۹۱۸ء وفات ۱۹ ستمبر ۱۹۹۰ء