سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 441 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 441

398 ہے اب تم لوگ تین روز کے لئے کلر کہار ہو آؤ۔وہاں سے واپسی ہوئی تو حضور دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کے مصروف ترین شخص کو اتنا وقت دیتے ہوئے اور اپنے حقیر خادم کا اتنا خیال رکھتے ہوئے۔حضور کا کتنا بڑا احسان ہے اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں آپ پر۔بچوں سے پیار و شفقت اور درگزر کا سلوک فرماتے مگر نظم و ضبط اور تربیت کی ذمہ داری کبھی بھی نظر انداز نہ ہوتی۔مکرم مولوی عبدالرحمان انور کی یاداشت میں سے دو واقعات پیش ہیں :- ۲۰۔۲۱ ء کی بات ہے کہ خاکسار کی عمر ۱۳/۱۲ سال کی تھی۔ایک دفعہ جبکہ میں مکرم محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے ہمراہ ان کے مکان کے صحن میں جو حضرت اماں جان والا صحن تھا ہاکی سے کھیل رہا تھا۔کہ ہٹ سے گیند قریبی غسل خانہ میں چلا گیا اور پرنالہ کے اندر پھنس گیا۔ہم دونوں اسے نکالنے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ اچانک حضرت خلیفہ المسیح الثانی لوٹا لے کر غسل خانہ کی طرف تشریف لائے ہم گھبرا کر وہاں سے ہٹنے لگے تو حضور خاموشی سے دوسرے غسل خانہ میں تشریف لے گئے اور ہم پر کوئی اظہار ناراضگی نہ فرمایا اور درگزر فرمایا۔ورنہ عام حالات میں ڈانٹ ڈپٹ کا موقع تھا کہ ہم یہاں کیا کر رہے ہیں اور کیوں آئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔قادیان میں گرمیوں کے موسم میں ایک سال جبکہ حضور خود دھرم سالہ تشریف لے گئے تھے۔حضور نے کچھ بچوں کے متعلق یہ پسند فرمایا کہ کسی شخص کی زیر نگرانی ان کو ڈلہوزی ایک ماہ کے لئے بھیجا جاوے۔حضور نے مجھے کسی کو اس کام کے لئے تجویز کرنے کا فرمایا۔خاکسار نے پہلے ایک دوست کا نام تجویز کیا۔حضور نے رضامندی کا اظہار نہ فرمایا۔پھر خاکسار نے ایک اور دوست کا نام تجویز کیا۔حضور نے اس کو بھی منظور نہ فرمایا۔پھر خاکسار نے عرض کیا کہ اگر مجھے ارشاد فرماویں تو خاکسار چلا جائے۔حضور نے فرمایا ہاں یہ ٹھیک ہوگا۔چنانچہ حضور نے مجھے ایک معین رقم عنایت فرمائی کہ اس رقم سے زیادہ ایک پیسہ حضور نہیں دینگے اس کے اندر ہی خرچ کو رکھا جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کئے اور بعض آسانیاں بہم پہنچیں