سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 438
395 بچوں سے مذاق بھی فرما لیتے۔طبیعت میں مزاح بہت تھا لیکن ایسا مزاح نہیں کہ دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث ہو۔با مذاق طبیعت کو پسند فرماتے۔بچوں کو کئی دفعہ جادو کے تماشے بھی کر کے دکھاتے جس سے بچے محظوظ ہوتے تھے۔اپنے بچوں کی اولاد سے بھی بہت پیار اور محبت کا سلوک کیا۔ان کی پسند کے تحائف دینے کا خیال رہتا تھا۔کسی بچہ کی خواہش کا علم ہوتا تو حتی الوسع اسے پوری فرماتے“۔مکرم خلیفہ صباح الدین صاحب حضور کی بچوں سے شفقت و پیار کے سلسلہ میں لکھتے ہیں :- حضور کا شروع سے ہی میرے ساتھ مشفقانہ سلوک رہا حضور نے ابا کو لکھا کہ اس کو میں نے بیٹا بنالیا ہے۔اب یہ ہماری ذمہ داری ہے۔نویں جماعت سے تعلیمی ضروریات حضور کی طرف سے پوری کی جاتیں خاکسار کو ارشاد تھا کہ آکر مل جایا کرو اور ربوہ سے باہر جانا ہو تو اجازت لے کر جاتا۔شکار پر جانا ہو پکنک پر جانا ہو حضور سے اجازت لیتا پھر جاتا شکار پر جانے کے لئے کارتوس وغیرہ عطا فرما دیتے تھے۔ربوہ سے باہر جانا ہو تو بعض اوقات کار کی اجازت فرما دیتے خاکسار نے دیکھا کہ جب کھیل کی غرض سے باہر جانا ہوتا تو میں دعا کے لئے عرض کرتا حضور اگر فرماتے اللہ رحم کرے تو میچ میں ہار ہوتی اگر حضور فرماتے اچھا اللہ فضل فرمائے یا دعا کرونگا تو پھر ہم جیت کر آتے۔مجھے اندازہ ہو جاتا کہ ہم جیتیں گے یا ہار ہوگی۔ایک مرتبہ برادرم عزیزم صفی الدین اور برادرم عزیزم فلاح الدین اور میں شکار پر گئے۔سارا دن کوئی شکار نہیں ملا دریا کے ساتھ ساتھ واپس آ رہے تھے کہ ایک دیہاتی ملا اس نے بتایا کہ سورج ڈوبنے کے ساتھ ہی تین مگ (بڑا آبی پرندہ) یہاں سے گزرتے ہیں میں نے کہا چلیں رُک کر دیکھ لیں۔ابھی وقت تھا ہم نے ریت میں لکڑیاں اور جھاڑیاں گاڑ کر اپنے آپ کو چھپا لیا۔عین غروب آفتاب کے ساتھ ہی تین مگ نمودار ہوئے ہم نے فیصلہ کر کے تینوں پر ///