سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 420
377 سے خرچ دیتے ہیں، کبھی کسی کو شکوہ و شکایت کا موقع نہیں ملتا، نہایت محبت اور شفقت سے پیش آتے ہیں، سب بیویاں دل کی گہرائیوں سے حضور کی مداح ہیں سفروں میں باری باری ساتھ لے جاتے ہیں، گھر میں باریاں مقرر ہیں اور ہر ایک کے حقوق کا پورا خیال رکھتے ہیں الفضل خلافت جوبلی نمبر ۲۸۔دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۹) حضرت مرزا طاہر احمد صاحب نے تعدد ازدواج کے باوصف گھر میں سکون واطمینان با ہم پیار ومحبت بلکہ احترام وعقیدت کے اس بہشتی ماحول کا آنکھوں دیکھا حال لکھا ہے اسے یہاں درج کئے بغیر یہ مضمون پوری طرح سمجھ نہیں آ سکتا۔آپ تحریر فرماتے ہیں :- لجنہ اماءاللہ کے پہلے تاریخی اجلاس میں منصب صدارت کا معاملہ طے ہو جانے کے بعد پہلی جنرل سیکرٹری حضرت سیدہ امتہ الحئی مرحومہ منتخب ہوئیں۔چنانچہ آپ بڑے انہماک اور جاں سوزی کے ساتھ اس خدمت میں مصروف ہو گئیں اور صدر مجلس کی رہنمائی میں اس نوزائیدہ مجلس کے تنظیمی ڈھانچے کو منتظم اور مربوط کرنے میں شب وروز کوشاں رہیں لیکن افسوس کہ آپ کی لامتناہی نیک تمناؤں کے مقابل پر اس دار فانی میں آپ کی زندگی کے بہت تھوڑے دن باقی تھے۔۔سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکز یہ کا عہدہ سنبھالے ہوئے ابھی ایک سال بھی پورا نہ گزرا تھا کہ بچے کی قبل از وقت پیدائش کے باعث آپ خطرناک طور پر بیمار ہو گئیں اور یہی بیماری آپ کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی۔آپ کی وفات کے بعد خاکسار کی والدہ مرحومہ حضرت سیدہ مریم بیگم جو بعد میں اُمم طاہر کے نام سے جماعت میں معروف ہوئیں جنرل سیکرٹری لجنہ اماء اللہ منتخب کی گئیں آپ بھی ۵۔مارچ ۱۹۴۴ء یعنی اپنی وفات کے دن تک مسلسل اس عہدہ پر فائز رہیں اور صدر مجلس کے ساتھ کامل اطاعت اور تعاون کی روح کو قائم رکھتے ہوئے خدمت دین کی توفیق پاتی رہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی ازواج کا ایک تنظیم کی لڑی میں منسلک ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے تابع ہو کر سالہا سال تک اس طرح خدمتِ دین بجالا نا کہ تنظیمی ڈھانچہ میں ایک ادنی سا ختنہ بھی نہ پڑا ہو۔۔۔۔یا ایسی بات ہے