سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 382 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 382

339 کے سپر د ہوتا تھا۔۔یا اگر کسی سفر کی تیاری کرنی ہوتی تھی تو ایسی تیاری کی انچارج بھی بالعموم وہی ہوا کرتی تھیں۔اسی طرح سفروں کے درمیان میں ٹرپ یعنی تفریحی سیروں کا انتظام بھی عام طور پر وہی کیا کرتی تھیں۔چنانچہ اس وقت مجھے گزشتہ سفر ڈلہوزی کا ایک چھوٹا سا گھر یلو واقعہ یاد آ گیا ہے جو اس جگہ مختصراً درج کرتا ہوں۔حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ چونکہ گذشتہ سال ایک لمبی بیماری سے اُٹھے تھے اس لئے قیام ڈلہوزی کے آخری ایام میں حضور نے صحت کے خیال سے بعض تفریحی سیروں کا انتظام فرمایا تھا ان سیروں میں سے آخری سیر کالاٹوپ پہاڑ تک کی گئی تھی۔۔۔۔۔اور ٹرپ کا اہتمام بدستور سیدہ اُمم طاہراحمد کے ہاتھ میں تھا۔چونکہ سیدہ موصوفہ نے انتظام وغیرہ کی وجہ سے سب سے آخر میں آنا تھا اس لئے میں نے دیکھا کہ جب ہم اپنے گھروں سے قریباً ایک میل نکل آئے تو سیدہ مرحومہ والے گھوڑے پر ان کی بجائے ہماری بڑی ممانی آرہی ہیں مجھے حیرانی ہوئی کہ یہ کیا بات ہے اور میں نے اس کا ذکر (حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) سے بھی کیا اس پر میں نے دیکھا کہ حضور کے چہرہ پر کسی قدر فکر اور اس کے ساتھ ہی رنج کے آثار ظاہر ہوئے۔فکر اس لئے کہ سیدہ اُمم طاہر کی عدم موجودگی میں کہیں انتظام میں کوئی دقت نہ ہو اور رنج اس لئے کہ ٹرپ کو رونق دینے والی رفیقہ حیات پیچھے رہ گئیں مگر حضور نے زبان سے صرف اس قدر فرمایا کہ سارا انتظام امم طاہر نے ہی کیا ہوا ہے اور انہیں ہی معلوم ہے کہ کون سی چیز کہاں ہے اور کون سی کہاں کسی اور کو تو کچھ خبرنہیں ان کے پیچھے رہ جانے کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ جب وہ گھوڑے پر چڑھ کر روانہ ہو رہی تھیں تو (حضرت اماں جان نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ شوکت (ہماری بڑی ممانی صاحبہ ) نے ضرور جانا ہے ان کے لئے انتظام کر دو۔سیدہ موصوفہ جنہیں حضرت اماں جان سے انتہائی محبت اور اخلاص تھا فوراً اپنے گھوڑے سے اُتر آئیں اور ممانی جان کو اپنا گھوڑا دے کر روانہ کر دیا اور آپ پیدل چل پڑیں۔“ ( الفضل ۲۔اپریل ۱۹۴۴ء صفحه ۴) حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے جو اپنی عظیم الشان والدہ کی وفات کے وقت