سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 381 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 381

338 بہت بوجھ ہے۔میں نے ان کو تسلی دلائی کہ مریم! اس کی بالکل فکر نہ کرو میں یہ خرچ تمہارے آرام کے لئے کر رہا ہوں تم کو تکلیف دینے کے لئے نہیں۔۔۔۔۔۔ان کی بیماری کے لمبا ہونے پر میرے دل میں خیال آیا کہ خرچ بہت ہو رہا ہے روپیہ کا انتظام کس طرح ہوگا تو دل میں بغیر ادنی انقباض محسوس کئے میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں کوٹھی دارالحمد اور اس کا ملحقہ باغ فروخت کر دوں گا۔میں نے دل میں کہا کہ اس کی موجودہ قیمت تو بہت زیادہ ہے لیکن ضرورت کے وقت اگر اسے اونے پونے بھی فروخت کیا جائے تو پچھتر ہزار کو وہ ضرور فروخت ہو جائے گی اور اس طرح اگر ایک سال بھی مریم کے لئے یہ خرچ کرنا پڑا تو چھ ہزار روپیہ ماہوار کے حساب سے ایک سال تک ان کے خرچ کی طرف سے بے فکری ہو جائے گی اور یہی نہیں میرانفس مریم بیگم کے لئے اپنی جائداد کا ہر حصہ فروخت کرنے کے لئے تیار تھا تا کسی طرح وہ زندہ رہیں۔اس وقت میرا دل چاہتا تھا کہ ابھی چونکہ زبان اور کان کام کرتے ہیں میں ان سے کچھ محبت کی باتیں کرلوں مگر میں نے فیصلہ کیا کہ اب یہ اس جہان کی روح نہیں اُس جہان کی ہے اب ہمارا تعلق اس سے ختم ہے۔“ الفضل ۱۲۔جولائی ۱۹۴۴ء صفحہ ۱ تا ۵) جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے حضرت سیدہ موصوفہ خدمت خلق کے کاموں میں غیر معمولی دلچسپی لیتی تھیں۔غرباء کی ہمدردی، مشکل میں مبتلاء لوگوں کی مدد بیماروں کی تیمارداری اور خبر گیری اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے بزرگ خاوند کی دیکھ بھال جماعتی کاموں میں بھر پور امداد انتظامی امور میں آگے آگئے ان سب خوبیوں اور اوصاف کے متعلق بکثرت مثالیں اور واقعات موجود ہیں تا ہم آپ کی وفات پر جس طرح غمزدہ افراد جماعت نے دُکھ اور رنج محسوس کیا جس طرح پلک پلک کر روئے اور جس طرح جنازہ میں شامل ہوئے اُس کو دیکھتے ہوئے کسی اور مثال یا ثبوت کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے تحریر فرمایا : - حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھی عموماً خاص موقعوں کے انتظامات انہی کے سپرد فرمایا کرتے تھے مثلا گھر کی خاص دعوتوں کا انتظام انہی