سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 361
317 حضرت بڑے بھائی صاحب جب پاس آتے تو کہتی تھیں میاں ! دیکھو مجھے قادیان ضرور پہنچانا بہشتی مقبرہ میں۔بڑے بھائی صاحب کی آنکھیں تر ہو جاتیں اور کمرہ سے نکل جاتے یہ حالت یہ تڑپ دیکھ کر۔( بہن بھائیوں کی دلداری تو کرتے ہی تھے بہن بھائیوں کی اولاد سے بہت پیار اور محبت کا ہمیشہ سلوک کیا۔اپنے بچوں کے لئے تو کچھ لحاظ اور شرم بھی پہلے پہل کہ اماں جان کے سامنے گود میں لینا پیار کرنا اس میں شرم محسوس کرتے )۔مگر امتہ السلام سلمها منجھلے بھائی کی بڑی لڑکی سے بہت پیار کرتے۔منجھلے بھائی لڑکی سے شرم کے مارے بات تک نہ کرتے تھے۔مگر حضرت بڑے بھائی صاحب نے بہت ہی ان سے لاڈ پیار کا سلوک رکھا۔اب تک سلام کی کوئی تکلیف سن کر برداشت نہیں کر سکتے تھے ) کسی نے افواہ سنائی کہ مرزا رشید احمد اور شادی کرنا چاہتے ہیں سخت غصہ آیا کہنے لگے مجھے رات بھر نیند نہیں آسکی۔رشید سے کہدو کہ سلام بے وارث نہیں ہے ابھی میں زندہ ہوں اس کے باپ بھائی سب خدا کے فضل سے سلامت ہیں یہ شادی میں نے اپنے بڑے بھائی ( حضرت مرزا سلطان احمد صاحب) کے اصرار پر ان کی خاطر کی تھی۔میاں بشیر کا تو دخل بھی نہ تھا۔میں سلام کو تکلیف نہیں پہنچنے دوں گا وغیرہ۔نو عمری یا بچپن کے دوست مجھے ایک تو ڈاکٹر اقبال غنی یاد ہیں ان کی اور دوسرے ایک دو دوستوں کی ان کے آنے پر دعوت کرنا بھی یاد ہے۔با ہر ساتھ کھیلنے والے اور کشتی وغیرہ چلانے کے وقت ساتھ والوں میں چراغ، باغ دونوں بھائی اور غالباً میاں غلام حسین لنگر خانہ والے کے لڑکے بھی ہوتے تھے۔ایک عمر دین ، مہر دین ہوتے تھے۔جن کی والدہ حضرت منجھلے بھائی کی کھلانے والی تھیں۔باتیں لکھنے بیٹھی تو لمبی ہوگئی ہیں۔اکثر باتیں میں لکھ بھی چکی ہوں ایک اور بات یاد آ گئی حضرت اماں جان کی وفات کے بعد لوگ حضرت اماں جان کا تبرک بہت مانگتے تھے۔چند دن وفات پر گذرے تھے میں نے کہا اماں جان نے اسی سال اتنے کپڑے لوگوں میں تقسیم کئے کہ بہت کم رہ گئے ہم نے بھی