سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 320 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 320

286 نے ہمیں پاکستان میں حفاظت کی جگہ دیدی زبان کے مسئلہ کی وجہ سے بہت مشکلات پیدا ہوئیں اور فسادات ہوتے رہے جو انتہائی خوفناک طریق پر بڑھتے بڑھتے پاکستان کی شکست وریخت پر منتج ہوئے۔اس سلسلہ میں بھی حضور کی قائدانہ راہنمائی نہایت سادہ مگر مفید اور موثر تھی۔اس پُر خلوص نصیحت پر عمل کیا جاتا تو بعد میں پیش آنے والے خوفناک نتائج اور بھیا نک نقصانات سے بچا جا سکتا تھا۔آپ نے فرمایا : - میں اصولاً تو یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی زبان لازمی طور پر اُردو ہے لیکن موجودہ حالات میں یہ ضروری ہے کہ بنگالیوں کی دلجوئی کر کے ان کے ساتھ محبت اور ہمدردی کے جذبات رکھے جائیں اور زبان کے سوال کو موجودہ 66 حالات میں اُٹھانا خواہ مخواہ اس مسئلہ کو اختلاف کی بنیاد بنانا درست نہیں۔“ ایک سوال کے جواب میں مسئلہ جہاد پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے مختصر مگر جامع الفاظ میں جواب دیتے ہوئے فرمایا :- ہم قرآن کریم کو مانتے ہیں۔لامحالہ جو چیز قرآن میں ہوگی وہی ہمارا عقیدہ اور مسلک ہوگا۔ہاں اس کی توضیح اور مفہوم میں فرق ہو سکتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد دشمنوں کے حملوں کے دفاع کا نام ہے اور ایک دفعہ جنگ شروع ہو جانے کے بعد اقدام بھی لازماً اس کا ایک حصہ بن جائے گا۔“ ( الفضل ۲۔اپریل ۱۹۵۲ء) ۲۵۔مارچ کو حیدر آباد کے تھیو سافیکل ہال میں اتحاد بین المسلمین پر ایک اثر انگیز تقریر فرمائی۔اس اجلاس کی صدارت حیدر آباد کی ایک معروف شخصیت جناب ایم اے حافظ بارایٹ لاء نے کی انہوں نے حضور کی تقریر سے پہلے تعارفی کلمات میں کہا :- ہماری خوش قسمتی ہے کہ اسلام میں جماعت احمدیہ جیسی ایک جماعت ہے جس کے کارنامے طویل ہیں۔اس جماعت نے اسلام کو جس جوش وخروش سے یورپ میں پیش کیا ہے وہ اس کا حصہ ہے اور ہم سب مسلمان ان کے ممنون ہیں۔اس جماعت کے ایک ممبر آنریبل چوہدری محمد ظفر اللہ خان حکومت میں شامل ہیں اس ممبر نے دنیا میں پاکستان کی عزت کو چار چاند لگا دیئے ہیں اور دنیا میں پاکستان کا نام بلند کرنے اور اسلامی ممالک کو متحد بنانے میں عظیم الشان ///////