سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 295
273 یہی وجہ ہے کہ حضور کے پاس بیٹھنے والوں کو یہ خیال ہوتا تھا کہ حضور ہمارے خیالات کی رو اور دل کی باتوں کو از خود ہی سمجھ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے پیاروں کی جستیں غیر معمولی طور پر تیز ہوتی ہیں۔یہاں حضور کی محنت اور کام کی لگن کے ذکر کے ساتھ ہی اس سلسلہ میں بھی چند سطور کا اضافہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔حضور کی قوت شامہ بہت تیز تھی آپ فرماتے ہیں:۔میرے اپنے ناک کی جسس غیر معمولی طور پر تیز ہے یہاں تک کہ میں دودھ سے پہچان جاتا ہوں کہ گائے یا بھینس نے کیا چارہ کھایا ہے۔اسی لئے اگر میرے قریب ذرا بھی کوئی بد بودار چیز ہو تو مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے اور جولوگ میرے واقف کار ہیں وہ مسجد میں داخل ہوتے وقت کھڑکیاں وغیرہ کھول دیتے ہیں کیونکہ اگر بند ہوں تو میرا دم گھٹنے لگتا ہے میں ہمیشہ کثرت سے عطر لگایا کرتا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی کثرت سے عطر لگایا کرتے ( سیر روحانی جلد اول صفحه ۲۶۱) تھے حضور کا خط یا طرز تحریر بہت شکتی تھی۔اس کی شکستگی کی وجہ سے ہر شخص بآسانی نہیں پڑھ سکتا تھا و کا خط یا۔اس وجہ سکتاتھا تا ہم آپ لکھتے بہت تیز تھے آپ نے ایک موقع پر اس کے متعلق بیان فرمایا کہ : د میں بڑا تیز لکھنے والا ہوں اور خدا کے فضل سے بہت تیز لکھ سکتا ہوں۔اور بھی تیز لکھنے والے ہوں گے لیکن میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ مجھ سے زیادہ تیز لکھ سکتا ہو میں مضمون کے سو سوا سو صفحے ایک دن میں لکھ سکتا ہوں“ ( خطبات جلد ۵ صفحه ۲۳۷) حضور کے فن خطاب میں کمال کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اس سلسلہ میں حضور نے خدا کے اس احسان و انعام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے سلطان القلم قرار دیا تھا اس کے مقابلہ میں اس نے مجھے اتنا بولنے کا موقع دیا کہ مجھے اس نے سلطان البیان بنادیا (الفضل ۹ مئی ۱۹۶۲ء خطبات محمو دجلد دوم صفحه ۳۳۴) معمولی باتوں سے اہم نتائج حاصل کرنے کی مندرجہ ذیل مثالیں حضور کی نکتہ رس طبیعت کی شاہد ہیں: میں جب لوگوں کو کہتا ہوں کہ خط لکھتے رہو تو اس کا مطلب بھی یہی ہوتا