سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 276 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 276

253 والی ہیں۔ان خطر ناک اوقات میں اگر کوئی جماعت لوگوں کے لئے مفید کام کر سکتی ہے تو وہ جماعت احمد یہ ہی ہے۔صرف ایک ہماری جماعت ہی ہے جس کا ایثار محض خدا کے لئے ہوتا ہے اور جس کے سامنے کوئی ذاتی مقصد نہیں جس کے لئے وہ دنیا میں نیک تغیر پیدا کرنا چاہتی ہے بلکہ اس کا مقصد محض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم ہوا اور اس کا جلال لوگوں پر ظاہر ہو۔ایسے وقت میں اگر ہم اپنے فرائض سے کوتا ہی کرینگے تو یہ امر دنیا کی تباہی کا موجب ہوگا اور اگر ہم اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کرینگے تو دنیا کی آئندہ اصلاح کے ہم بانی ہونگے اور جو عظیم الشان تغیر پیدا ہوگا اس کے ثواب کے حقدار ہو نگے۔اس وقت ہم ایک ایسے نازک مقام پر ہیں کہ ذراسی سستی اور غفلت کے ذریعہ ہم خدا تعالیٰ کو ناراض کر نیوالوں میں بھی شامل ہو سکتے ہیں اور اپنے فرائض ادا کر کے ہم خدا تعالیٰ کی بہترین مخلوق بھی بن سکتے ہیں۔ہم سے بہتر موقع شاید ہی کسی قوم کو ملا ہو۔یہ وہ زمانہ ہے جس کے فتنوں کی تمام انبیاء نے خبر دی ہے۔ایسے زمانہ میں کام کر نیوالی قوم دنیا میں معمولی قوم نہیں سمجھی جاسکتی بلکہ ایک ایسی تاریخی یادگار کی حامل ہوگی کہ صرف دنیا کی زندگی تک اس کی شہرت قائم نہیں رہے گی بلکہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ بھی اس یاد گار کو بے تو جہی سے نہیں دیکھے گا اور اس زمانہ میں کام کرنے والوں کو ایسا مقام دیگا کہ دنیا حسد ورشک کی نگاہوں سے اسے دیکھے گی۔پس یہ ایسا موقع نہیں جسے کوئی سمجھ دار شخص گنوانے کے لئے تیار ہو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں کمانے والے بھی ہوتے ہیں ، پیشہ ور اور صاحب فنون بھی ہوتے ہیں اور اسلام ان کا موں میں حصہ لینے سے روکتا نہیں مگر ایسے موقع پر اگر کوئی شخص اپنی ساری توجہ ان مقاصد کے لئے صرف کر دیتا ہے اور جس غرض کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو معبوث فرمایا گیا تھا اس کی طرف توجہ نہیں کرتا تو وہ دنیا کا ادنی ترین انسان ہے وہ جاہل سے جاہل انسان سے بھی بدتر ہے کیونکہ اس نے ایک ایسا قیمتی موقع کھو دیا جس کے لئے پاگل بھی تیار نہیں ہوسکتا۔“ الفضل مورخہ ۱۰۔اپریل ۱۹۶۲ء صفحہ ۲) جماعت کے سامنے بڑے بڑے کام اور اہم مقاصد ہیں ان کی طرف توجہ دلاتے ہوئے