سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 265
242 ہدایت اور نگرانی میں کام کرتی تھی۔امانت فنڈ حضور نے اپنی معرکتہ الآراء تحریک ( جو تحریک جدید کے نام سے مشہور ہے ) میں مختلف مطالبات کئے تھے ان میں ایک مطالبہ امانت فنڈ کا بھی تھا اس مطالبہ کی رُو سے احباب جماعت کو تلقین کی گئی تھی کہ وہ اپنی ایسی رقوم جو بنکوں میں پڑی ہیں وہ جماعت کے خزانہ میں بطور امانت رکھوا دیں۔احباب ضرورت کے وقت ایسی رقوم اپنی مرضی سے نکلوا سکتے ہیں اور اس پر کوئی پابندی نہ ہوگی۔جماعت نے اس مطالبہ پر اپنے روایتی طریق کے مطابق لبیک کہا اور خزانہ صدر انجمن میں ایک خطیر رقم جمع ہوگئی۔حضور کی اس مبارک تحریک کے بہت شاندار نتائج نکلے اس کا ایک فائدہ بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:- ” ہمارے دشمنوں کو جو نا کامی ہوئی ہے اس میں امانت فنڈ کا بہت بڑا حصہ ہے اور اب جو نیا فتنہ اٹھا تھا اس نے بھی اگر زور نہیں پکڑا تو درحقیقت اس میں بھی بہت سا حصہ تحریک جدید کے امانت فنڈ کا ہے“ ( الفضل ۴ دسمبر ۱۹۳۷ء صفحه ۱۵) یہ ایک بہت بڑا فائدہ تھا لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے اس فنڈ سے اس سے بھی بڑے بڑے فائدے پہنچنے والے تھے چنانچہ تقسیم برصغیر کے خونیں حادثہ میں مشرقی پنجاب کے لوگوں کی جائداد میں اور اموال ہندوستان میں ہی رہ گئے۔بہت سے بنکوں نے بھی امانت داروں کو ان کی امانتیں واپس کرنے سے انکار کر دیا اس طرح ان لوگوں کو ہندوؤں سکھوں کی لوٹ مار کے علاوہ بنکوں کی وجہ سے بھی بہت نقصان پہنچا البتہ وہ خوش قسمت احمدی جن کی امانت جماعت کے پاس تھی وہ اس نقصان سے بچ گئے۔بظاہر تو جماعت کے اموال بھی قادیان میں ہی رہ گئے تھے مگر ہمارے بیدار مغز چوکس رہنما نے ہنگامی حالات میں اسوہ رسول پر عمل کرتے ہوئے امانتوں کی حفاظت کا انتظام فرمایا۔خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کا یہ واقعہ مکرم شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی کی زبانی پیش ہے۔۱۹۴۷ء میں جب ہمیں قادیان سے ہجرت کر کے لاہور آنا پڑا تو میں چونکہ امانت میں کام کیا کرتا تھا اس لئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مجھے حکم دیا کہ لاہور جاتے ہوئے آپ امانت کے ٹرنک اپنے ساتھ لیتے جائیں امانت کے ٹرنکوں کے متعلق حضرت میاں صاحب نے مجھے فرمایا کہ حضرت خلیفہ ثانی