سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 264 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 264

241 نہ میں سوال کرتا ہوں ، نہ میری طرف سے کوئی ایسا چندہ مقرر ہے کہ جو میرے نفس کے لئے ہو، نہ سالانہ نہ ماہانہ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں خود اپنی مقدرت کے مطابق با قاعدہ چندہ ان مدات میں دیتا رہتا ہوں ، جن میں باقی سب احمدی چندہ دیتے ہیں اور اس کے علاوہ مجھے اپنے کام کی ذمہ داری کے ماتحت کئی غرباء اور مساکین کی خبر گیری کرنی پڑتی ہے اور کئی بتامی کی تعلیم کا بندو بست کرنا پڑتا الفضل ۸۔جنوری ۱۹۱۸ء صفحہ ۸) 66 مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے درویش قادیان کی روایت کے مطابق اس سلسلہ میں حضور نے فرمایا: - وو احباب جو نذرانے دیتے ہیں وہ بطور خلیفہ کے مجھے دیتے ہیں اور میں بوجہ خلیفہ ہونے کے ذمہ دار ہوں کہ خلافت کے امور اور بیوگان دیتامی وغیرہ پر انہیں صرف کر دیتا ہوں یہ میری ذاتی آمد نہیں۔“ اس قسم کے اخراجات کے سلسلہ میں حضور یہ بھی خیال رکھتے کہ کسی مستحق کی عزت نفس مجروح امداد نہ ہو۔آپ فرماتے ہیں: دمستحقین والے حصہ کو میں نے خلافت کے ماتحت اس لئے رکھا ہے کہ اس میں ایک قسم کا اخفاء ضروری ہے کیونکہ اس میں زیادہ تر یہی مد نظر ہے کہ وابستگان خلافت اور وابستگان جماعت کی امداد کی جائے اور ان کی دلجوئی کے لئے انہیں کچھ رقمیں دی جائیں اور اس قسم کی امداد کا ظاہر ہونا طبعا لوگ پسند نہیں کرتے اور گو اس صورت میں بھی بہت چھوٹی چھوٹی رقمیں ان کے حصہ میں آئیں گی مگر چونکہ عام طور پر طبائع پر اس قسم کی امداد کا اظہار گراں گزرتا ہے اس لئے خلافت کی مد ہی ایسی ہے کہ اس کے ماتحت بغیر دفتر میں سے گزرنے کے دوسرے کی امداد کے لئے رقم دی جاسکتی ہے اور اس شخص کی طبیعت پر بھی گراں نہیں گزرتا۔(رپورٹ مشاورت ۱۹۵۲ء صفحه ۹) زکوۃ کے اموال بھی حضور ہی کی منظوری سے تقسیم ہوتے تھے اور اس کے بل پر بھی حضور تصدیقی دستخط فرماتے تھے اور بعض شریف خاندانوں کے غرباء کو خفی طور پر خود مد بھجواتے تھے۔فطرانہ اور موسم سرما میں پار چات وغیرہ کی تقسیم کے لئے حضور نے ایک کمیٹی مقرر فرمائی ہوئی تھی جو حضور کی