سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 16
16 نوجوان آپ کی ملاقات کے لئے شیخ مشتاق حسین صاحب مرحوم ( جو ہمارے معزز بھائی شیخ بشیر احمد صاحب کے والد محترم تھے جو کچھ عرصہ قبل تک مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے جج رہے ہیں ) کے ہمراہ حاضر خدمت ہوا۔میں وہ تیسرا شخص تھا جو اس ملاقات کے وقت وہاں موجود تھا حضرت صاحب نے نو جوان کی تمام باتوں کو بغور سنا اور اپنے والد کی رہائی کے لئے اس کی عاجزانہ درخواست دعا پر آپ نے نہایت تسلی آمیز الفاظ میں فرمایا۔میں دعا کروں گا حضرت صاحب کی آواز اتنی زیادہ ہلکی تو نہیں البتہ سرگوشی سے ذرا بلند تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔مجھے یہ یقین ہو گیا کہ آپ کی دعائیں سنی جائینگی اور قبولیت کا شرف حاصل کریں گی۔لیکن اس کے با وجود میرا قانونی ذہن یہ معلوم کرنے کا منتظر تھا کہ آخر کس طرح کوئی ٹھوس نتیجہ حاصل ہو سکے گا !! میں اس کیس میں بطور وکیل تو منسلک نہ تھا لیکن میں اپیل کنندہ کو جانتا تھا اور مجھے بعض حقائق کا سماعی علم بھی حاصل تھا۔مقدمہ میں بنیادی حیثیت ایک قانونی نکتہ کو حاصل تھی۔مقدمہ کا بنیادی گواہ اپنے سابقہ بیان میں بعض کڑیاں جو مجرم اور ان اسباب جرم سے تعلق رکھتی تھیں جن کی بناء پر فرد جرم عائد کی گئی تھی مہیا کرنے میں ناکام رہا تھا البتہ اس گواہ کا سابقہ بیان جو اس نے اس مجسٹریٹ کے رو برو دیا تھا جس نے پہلی سماعت کی تھی وہ بیان ان لازمی کڑیوں پر مشتمل تھا۔استغاثہ نے اس بیان کو مقدمہ میں بطور شہادت پیش کیا۔اپیل کنندہ کے مقدمہ کا انحصار زیادہ تر اسی بیان پر تھا۔اپیل جسٹس پٹ مین کے روبرو برائے سماعت پیش ہوئی انہوں نے فیصلہ دیا کہ اپیل کنندہ کے خلاف شہادت میں گذشتہ بیان نا قابل تسلیم ہے اور چونکہ باقی شہادتیں جرم کے ثبوت کے لئے نا کافی ہیں اس لئے انہوں نے اپیل کو منظور کر لیا اور مقدمہ کو خارج کرتے ہوئے اپیل کنندہ کو رہا کر دیا۔چند مہینوں کے بعد وہی نکتہ کسی اور مقدمہ کے سلسلہ میں ایک ڈویژن بینچ