سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 237
224 اس وقت بھی انہوں نے دعوت سے انکار کر دیا۔پھر ایک دفعہ یہاں شیخ رحمت اللہ صاحب آئے اور بہشتی مقبرہ میں گئے تو میں نے قاضی امیرحسین صاحب کے ذریعہ و ہیں انہیں دعوت کا پیغام بھیجا مگر انہوں نے انکار کر دیا پھر میں خود ان کے پاس پہنچا اور وہیں چائے منگا کر انکو پلائی اور ٹھہرنے کے لئے بھی کہا لیکن وہ ٹھہر نہ سکے۔پھر یہ لوگ مولوی محمد احسن صاحب کے لئے یہاں آئے تو میں نے دعوت کا پیغام بھیجا لیکن انہوں نے دعوت رد کر دی۔میں نے مولوی شیر علی صاحب کے ہاتھ ٹانگہ پر کھانا بھجوایا کہ بٹالہ اُتر کر کھا لینا لیکن انہوں نے ٹانکہ میں برتن رکھے ہوئے اُتار الفضل ۲۳۔مارچ ۱۹۲۶ء صفحہ ۶ ) دیئے۔" یہاں اس وضاحت کی زیادہ ضرورت نہیں ہے کہ جن افراد کا اوپر ذکر آیا ہے وہ حضور کی مخالفت میں بنیادی کردار ادا کرنے والے تھے۔مہمان نوازی کے خُلق کو اپنانے کی تلقین میں حضور کے بعض ارشادات درج ذیل ہیں :- زمین پر جب سے کہ انسان کو خدا نے پیدا کیا ہے اسی وقت سے تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرتِ انسانی میں اکرام ضیف کو رکھا گیا ہے اور بغیر کسی کسب کے اور بغیر اس کہے کہ کسی فلسفہ کے نتیجہ میں یہ خواہش پیدا ہو۔قدیم زمانہ سے اور فلسفہ کی ایجاد سے پہلے ، علوم کی دریافت سے پہلے انسانوں میں اکرام ضیف اور مہمان نوازی کا دستور ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فطری تقاضا ہے۔۔۔پس تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات پرانی چلی آتی ہے اور فطرتی بات ہے کہ انسان مہمان نوازی کرتا ہے اور مہمان کا اکرام کرتا ہے۔۔۔۔۔۔تو اکرام ضيف ایک فطری تقاضا ہے اور شرعی حکم بھی ہے اس لئے اب یہ محض فطری بات نہ رہی بلکہ شریعت کی تصدیق نے اس کو حکم ربی بنا دیا اس لئے کیا بلحاظ انسان بننے کے اور کیا بلحاظ مومن ہونے کے اکرام ضیف ضروری چیز ہے۔“ اسی طرح آپ فرماتے ہیں :- ( خطبات جلد خطبه نمبر ۶۵- صفحه ۳۴۷ تا ۳۵۰) اپنے مہمانوں کو آرام پہنچاؤ جہاں تک پہنچا سکو اور اسلئے خدمت مہمان کرو کہ خدا کا حکم ہے اس سے ثواب ہوگا۔نیز اس لئے بھی کہ اس سے اپنے نفس