سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 236 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 236

223 مہمان نوازی۔خدمت خلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ : - أَفْضَلُ الْفَضَائِلِ أَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ وَ تُعْطِيَ مَنْ مَنَعَكَ وَ تَصْفَحَ عَمَّنُ شَتَمَكَ۔یعنی سب سے بڑھ کر فضیلت یہ ہے کہ تو قطع تعلق کرنے والے سے تعلق قائم رکھے اور جو تجھے نہیں دیتا اسے بھی دے اور جو تجھے بُرا بھلا کہتا ہے اُس سے درگزر کر۔( مسند احمد بن حنبل المجلد الثالث صفحه ۷۳۸ بیروت ۱۹۲۸ء) وہ تینوں باتیں جو اس جگہ بیان کی گئی ہیں ان پر عمل کرنا بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ انسان کی انا ، دیکھنے والوں کی ہنسی و تمسخران باتوں پر عمل کرنے میں روک بن جاتی ہیں، پھر ایسی باتوں پر غصہ اور ضد بھی پیدا ہو جاتی ہے جو ایک اور روک بن جاتی ہے، اس کے علاوہ رواج، عادت ، ماحول کی کئی اور روکیں بھی ہو جاتی ہیں اس لئے حضور نے ان پر عمل کو سب سے بڑی خوبی اور فضیلت قرار دیا ہے۔حضرت فضل عمر اس حدیث پر پوری طرح کار بند اور ان بنیادی خوبیوں کے حامل تھے ذیل کا واقعہ اس پر واضح دلالت کرتا ہے۔حضور فرماتے ہیں:۔حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جب میں لا ہور آیا تو میں نے ایک دوست کے ذریعہ اس خیال سے کہ بعض دفعہ ملاقات کرنے سے ایک دوسرے سے نفرت دور ہو جاتی ہے، یہ تجویز کی کہ مولوی محمد علی صاحب کی دعوت کی جائے چنانچہ اس دوست نے دعوت کی لیکن مولوی محمد علی صاحب نے بجائے دعوت منظور کرنے کے یہ کہا کہ پہلے مباحثہ ہونا چاہئے۔آخر وہ مباحثہ کی طرف بھی نہ آئے۔پھر ایک دفعہ عبدالحئی مرحوم کی وفات پر مولوی محمد علی صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب وغیرہ یہاں آئے تو میں نے دعوت کے لئے پیغام بھیجا لیکن