سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 230
217 کو پاکستانی نمائندہ کے ذریعہ ہی دیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ میں نے ایک وزیر سے کہا کہ مجھے یہ نوٹس براہ راست کیوں نہیں دیا گیا تو اس نے کہا یہ نوٹس براہ راست تمہیں اس لئے نہیں دیا گیا کہ اگر ہم تمہیں نکال دیں تو پاکستانی گورنمنٹ ہم سے خفا ہو جائے گی پس ہم نے چاہا کہ پاکستانی سفیر تمہیں خود یہاں سے چلے جانے کے لئے کہے تا کہ ہمارے خلاف حکومت پاکستان کو کوئی خفگی پیدانہ ہو۔۔۔پاکستانی گورنمنٹ کے نمائندہ کے ذریعہ ہسپانوی گورنمنٹ کی طرف سے ہمارے مبلغ کو یہ نوٹس دیا گیا ہے کہ چونکہ تم اسلامی مبلغ ہو اور ہمارے ملک کے قانون کے ماتحت کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ دوسرے کا مذہب تبدیل کرے اس لئے تم اسلام کی تبلیغ نہ کرو ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں۔شاید کوئی محبت اسلام رکھنے والا سرکاری افسر میرے اس خطبہ کو پڑھ کر اس طرف توجہ کرے اور وہ اپنی ایمبیسی سے کہے کہ تم ہسپانوی گورنمنٹ کے پاس اس کے خلاف پروٹسٹ کرو اور کہو کہ اگر تم نے اسلام کے مبلغوں کو اپنے ملک سے نکالا تو ہم بھی عیسائی مبلغوں کو اپنے ملک سے نکال دیں گے۔۔بیشک اسلام ہمیں مذہبی آزادی کا حکم دیتا ہے مگر اسلام کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوری: ۴۱) یعنی اگر تمہارے ساتھ کوئی غیر منصفانہ سلوک کرتا ہے تو تمہیں بھی حق ہے کہ تم اس کے بدلہ میں اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو۔پس اگر کوئی حکومت اپنے ملک میں اسلام کی تبلیغ کو روکتی ہے تو مسلمان حکومتوں کا بھی حق ہے کہ وہ اس کے مبلغوں کو اپنے ملک میں تبلیغ نہ کرنے دیں۔اسی طرح چاہئے کہ ہماری گورنمنٹ انگلستان کی گورنمنٹ کے پاس بھی اس کے خلاف احتجاج کرے اور کہے کہ یا تو سپین کی حکومت کو مجبور کرو کہ وہ اپنے ملک میں اسلام کی تبلیغ کی اجازت دے نہیں تو ہم بھی اپنے ملک میں عیسائیت کی تبلیغ کو بالکل روک دیں گے۔اسی طرح وہ امریکہ کے پاس احتجاج کرے اور کہے کہ وہ ہسپانوی گورنمنٹ کو اپنے اس فعل سے رو کے ورنہ ہم بھی مجبور ہوں گے کہ عیسائی مبلغوں کو اپنے ملک سے نکال دیں۔بہر حال یہ ایک نہایت ہی افسوسناک امر ہے کہ ایک ایسا ملک جو پاکستان سے دوستانہ تعلقات رکھتا ہے ایک اسلامی مبلغ