سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 209 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 209

205 میری اتنی بات کا کہنا تھا کہ آپ گھبرا کر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہتے ہوئے میز پر سے اٹھے، چائے کی پیالی وہیں رکھ دی اور فر مایا میرے اس طور پر ناراضگی کے اظہار کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ وہ اس طرح دروازہ پر کھڑے بارش میں بھیگتے رہیں۔جلدی کرو انہیں کہو کہ وہ بھیگا لباس فورا تبدیل کریں، چائے بھیجو، باہر کہو ان کے کمرہ کو گرم کرنے کا فوری انتظام کریں۔وغیرہ۔اب دیکھیں ! آپ تربیت کرتے ہیں ، تادیب کرتے ہیں مگر اس میں کس قدر پیار و محبت اور ہمدردی کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔بالکل اس طرح جس طرح ایک باپ اپنی اولاد کی کرتا ہے بلکہ ان معنوں میں آپ کا وجود ایک باپ سے بھی ( الفضل فضل عمر نمبر ۱۹۶۶، صفحہ ج) کہیں بڑھ کر تھا۔تربیت اور اصلاح کے مدنظر مجبوراً بعض اوقات ایسا ذریعہ اصلاح تجویز کیا جاتا تھا جس میں حسب موقع سختی بھی ہوتی تھی اس کے متعلق آپ اپنا طریق کار بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- ”جب ہم اس قسم کی تادیبی کارروائی کسی کے لئے کرتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم اسے اپنے سے کاٹ دینا چاہتے ہیں۔اس دوران میں ایسے لوگ جن کے لئے مجبوراً یہ حکم صادر کرنا پڑتا ہے غرض یہی ہوتی ہے کہ ان کی اصلاح ہو جائے اور خدا تعالیٰ ان کو ضائع نہ کرے۔مجھے ان کے لئے یہ فیصلہ دیتے ہوئے روحانی اذیت ہوتی ہے اور میں اس دوران میں ان کی بھلائی اور اصلاح کے لئے دعائیں بھی کرتا ہوں اور شدید خواہش ان کے لئے یہی ہوتی ہے کہ وہ حق سے روگردانی نہ کریں۔“ پھر اس کے بعد آپ نے باغ کی مثال دی کہ باغ کے ناقص پودوں کی پہلے نگہداشت کی جاتی ہے اگر وہ پودا پھر بھی درست نہ ہو تو پھر گلے سڑے پودے اکھیڑ نے پڑتے ہیں۔اس ڈر اور خیال کی وجہ سے کہ اس سے تندرست پودے اثر انداز ہوں گے۔یہی حال جماعت کے افراد کا بھی ہے۔اس بات کے کرنے کے دوران میں آپ کے چہرے کی رنگت کو بار بار متغیر ہوتے دیکھ رہی تھی آپ کا چہرہ سُرخ تھا اور آواز میں درد اور پیار کے دونوں پہلو نمایاں تھے۔( الفضل فضل عمر نمبر ۱۹۶۶ء صفحہ ج)