سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 191
187 اور قہقہے لگاتے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں خشیت اللہ نہیں۔بعض احمدی بیعت کے وقت ہنستے رہتے ہیں یہ بھی سراسر نادانی کی بات ہے۔بیعت کا وقت تو نہایت سنجیدگی کا وقت ہوتا ہے یہ تو نئی پیدائش کا وقت ہوتا ہے خدا جانے جو بیعت کر رہا ہے کس نیت اور کس ارادہ سے کر رہا ہے اگر تو وہ نیک نیتی سے بیعت میں شامل ہو رہا ہے تو بھی یہ ایک اہم وقت ہے اس کی نئی پیدائش ہو رہی ہے اور اگر فتنہ اور منافقت کی نیت سے کر رہا ہے تب بھی یہ خطر ناک وقت ہے۔جولوگ بیعت کے وقت باتیں کرتے یا ہنستے ہیں میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ کس طرح ایسا کرنے کی جرات کرتے ہیں میری تو یہ حالت ہے کہ بچپن سے ہی جب میں کسی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کرتے دیکھتا تو بدن پر رعشہ طاری ہو جاتا اور ہمیشہ یہ محسوس کرتا کہ یہ نہایت سنجیدگی کا وقت ہے۔مگر آجکل میں نے دیکھا ہے بعض لوگ نہایت بے باکی سے بیعت کرتے وقت باتیں کرتے یا ہنستے رہتے ہیں حالانکہ یہ وقت ایک نئے بچہ کی پیدائش کے وقت کے مشابہہ ہوتا ہے۔ہماری جماعت کو بہت تربیت کی ضرورت ہے اور یہ ایک دوسرے کو سمجھانے سے ہی ہو سکتی ہے مگر میں نے یہ نقص بھی جماعت میں دیکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو مسائل سمجھاتے نہیں اگر دوست اس۔۔طرف توجہ کریں اور ایک دوسرے کو مسائل بتاتے اور سمجھاتے رہیں تو ایک سال بلکہ چھ ہی ماہ میں جماعت کی بہت اچھی تربیت ہو سکتی ہے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء صفحہ ۱۸-۱۹) مندرجہ ذیل واقعہ بھی احترام شریعت کے متعلق آپ کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے:- مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور پہاڑ پر رہائش پذیر تھے اور وہاں سے ایک قافلہ پکنک کے لئے حضور کے ساتھ جا رہا تھا۔قافلہ کے افراد پہاڑی ٹووں پر سوار تھے ، ایک ٹو ضرورت سے زیادہ سُست اور کاہل تھا اس کے پیچھے رہ جانے پر آواز دی :- ٹو کو چلاتے کیوں نہیں؟“