سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 190
186 سخت ظلم کرنے والے ہوں گے پس آج ہی اپنے نفوس کو ایسا مارو کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں یا تمہاری اولادوں کو بادشاہت دے تو تم ظلم کرنے والے نہ بنو اور تمہارے اخلاق اسلامی منہاج پر سُدھر چکے ہوں۔۔۔۔۔۔۔دنیا ہمارے صبر کو کمزوری اور ہمارے عفو کو ضعف پر محمول کرتی ہے اس لئے اس کا جواب یہی ہے کہ جب خدا ہماری جماعت کو طاقت دے تو اس وقت بھی وہ عدل وانصاف کے دامن کو نہ چھوڑے اور اپنے ہاتھ کو ظلم سے رو کے اور اس طرح اپنے عمل سے بتا دے کہ کمزوری اور طاقت ہر دو حالتوں میں محض خدا کے لئے اس نے ہر کام کیا الفضل ۹۔مارچ ۱۹۳۸ء صفحہ۹) آگے چل کر آپ فرماتے ہیں :- میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم بے غیرت مت بنو مگر اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہتا ہوں کہ تم ظالم بھی مت بنو۔ایسا نہ ہو کہ ایک گڑھے سے نکلو اور الفضل ۹ مارچ ۱۹۳۸ء صفحہ ۹) یہ سب نصائح سنجیدگی اور خدا خوفی کا تقاضا کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ شریعت کے معاملہ میں دوسرے گڑھے میں گر جاؤ“ کسی قسم کا استہزاء اور تمسخر آپ پسند نہ فرماتے تھے اس نقص اور کمزوری کو دور کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- ایک اور نقص میں نے دیکھا ہے بعض لوگ آیات قرآنی ہنسی سے پڑھ دیتے ہیں ، بعض روایات اور احادیث کو نسی میں بیان کر دیتے ہیں ، یہ بہت بُری عادت ہے اور اسے مٹا دینا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض ہی یہ تھی کہ لوگوں کے قلوب میں خشیت اللہ پیدا کریں اور چاہئے کہ ہماری ہر بات میں سنجیدگی ہو ، ہمارے چہروں سے سنجیدگی ظاہر ہو اور ہمارے حالات ایسے ہونے ، چاہیں کہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ احمدی جو کچھ کہتے ہیں سنجیدگی سے کہتے ہیں مذاق سے دینی باتیں نہیں کرتے۔اگر لوگوں پر ہم یہ اثر قائم کر لیں تو یہ بات تبلیغی لحاظ سے بھی بہت مفید ہوسکتی ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ کوئی مجھ سے بات چیت کرنے آتا ہے اور مسئلہ وغیرہ پوچھتا ہے تو بعض نادان احمدی اس کی لاعلمی کی باتوں کو سن کر ہنستے ہیں