سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 9 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 9

9 میں جماعت پر اعتراضات بھی ہوتے ، انتظامی امور بھی ہوتے ، تعبیر طلب خواہیں بھی ہوتیں، جماعت کی ترقی کے لئے مشورے بھی ہوتے ، غرض یہ ایک الگ عالم تھا جس کا کوئی ایسا شخص جس نے یہ نظارہ خود نہ دیکھا ہو پوری طرح اندازہ و تصور بھی نہیں کر سکتا۔یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں کہ رات کا آخری حصہ دعاؤں اور عبادات کے لئے وقف ہوتا۔آپ کو قریب سے دیکھنے والے تو آپ کی زندگی کو مسلسل عبادت سمجھتے تھے کیونکہ تلاوت بھی معمولاً بہت لمبی ہوتی تھی۔نمازوں کی امامت کے لئے مسجد میں جانے کی وجہ سے یہ ایک مستقل مصروفیت تھی جو کافی وقت کا تقاضا کرتی تھی۔ڈاک کی مصروفیت کا ذکر ہو تو ساتھ ہی آپ کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی ذہن میں آتا ہے۔بچوں کو ان کی مائیں کسی نہ کسی بہانے سے آپ کی خدمت میں بھجواتیں اور وہ حضور سے مل کر یوں سمجھتے کہ انہیں بہت بڑی نعمت اور خوشی میسر آئی ہے۔بیمار دوائی لینے یا مشورہ لینے کے لئے ، ضرورتمند اپنی ضروریات پیش کرنے کے لئے ، علمی راہنمائی حاصل کرنے والے عملی مشکلات میں مشورہ طلب کرنے اور پھر باہم لڑائی جھگڑوں کی شکایتیں، لین دین کے معاملات ، میاں بیوی کے تنازعات بھی ملاقاتوں میں پیش ہوتے اور بالعموم مشکلات اور معاملات کا ایسا حل نکل آتا جو باعث اطمینان ہوتا۔انتظامی ملاقاتیں بھی روزانہ کا معمول تھا ، سیاسی اور مذہبی لیڈروں اور ادیبوں اور سخنوروں سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہتیں۔یہ دلچسپ داستان تو جتنی بھی طویل ہو جائے کم ہے۔اس سے آگے آپ کے ایک بہت قریبی قابل اعتماد بلکه قابل فخر ساتھی اور مرید یعنی حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی تحریر پیش کی جاتی ہے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو پچاس سال سے زیادہ آپ کے اعتماد و قرب کی سعادت حاصل رہی چوہدری صاحب نے کمال اطاعت و انکسار سے آپ کی توجہات کریمانہ سے استفادہ کیا اور متعدد مواقع پر آپ کی ترجمانی کے فرائض سرانجام دیئے۔حضرت فضل عمر نے جو ہر قابل کو جس طرح تراش خراش کر کے پیش فرمایا۔حضرت چوہدری صاحب نے ایک مجذوب کی طرح فضل الہی کے اس بہاؤ کو جذب کیا اس کیفیت کو الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔حضرت چوہدری صاحب کے بیان سے سیرت کے بہت سے پیارے گوشے عیاں ہوتے ہیں۔ملاحظہ کیجئے:۔ستمبر یا اکتو بر ۱۹۰۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خاندان کے افراد اور بعض دیگر احباب کے ہمراہ سیالکوٹ میں رونق افروز ہوئے۔حضرت