سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 183 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 183

179 تربیت کے انداز حضرت فضل عمر نے اپنے پچاس سالہ نہایت کامیاب دورِ خلافت میں جماعت کی ترقی ، بہبودی، بہتری اور اصلاح کے لئے بے شمار خطبات ارشاد فرمائے ، مجالس مشاورت میں توجہ دلائی، اجتماعات میں بھی یہ موضوع بیان فرمایا۔ظاہر ہے کہ ان تمام ارشادات کو اس جگہ جمع کرنا اور پیش کرنا ممکن نہیں ہے البتہ بطور نمونہ چند باتیں پیش کی جارہی ہیں اس سے حضور کے انداز تربیت کا پتہ چلنے کے ساتھ حضور کے انداز فکر اور جماعت سے توقعات کا بھی پتہ چلتا ہے۔حضور کے یہ ارشادات مستقل نوعیت کے ہیں اور ان پر جو شخص بھی عمل کرے گا اور جب بھی عمل کرے گا وہ ضرور ایک مفید اور نفع رساں وجود بن سکے گا۔حضرت مصلح موعود اسلامی تعلیم اور قرآنی رہنمائی کے مطابق تعد دازدواج کے قائل تھے مگر آپ نے کبھی بھی اکثر دوسرے مسلم سکالرز کی طرح کوئی معذرت خواہانہ طریق اختیار نہیں کیا بلکہ زندگی بھر اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ آپ اس طریق کو بہتر سمجھتے اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے بلکہ حضور تو ہمیشہ ہی تمدن اسلام کے مطابق زندگی بسر کرتے ، تمدن اسلام کو عام کرتے تمدن اسلام کو مغربی تمدن کے مقابل پر بنی نوع انسان کے لئے ہر لحاظ سے بہتر مفید اور قابل عمل سمجھتے تھے اور آپ کے عقیدہ اور ایمان میں یہ امر شامل تھا جس پر آپ سختی سے عمل پیرا بھی تھے کہ ہماری زندگی پورے طور پر اسلامی تعلیم و تمدن کی صحیح عکاسی کرنے والی ہو۔مغربی تمدن کے متعلق پُر زور انداز میں حضور فرماتے ہیں :- یا درکھو کہ مغربی تہذیب و تمدن اور فیشن ہرگز باقی نہیں رہیں گے بلکہ مٹا دیئے جائیں گے اور ان کی جگہ دنیا میں اسلامی تمدن قائم ہوگا۔وہ آگ جو اس بارہ میں میرے دل میں ہے وہ جس دن بھڑ کے گی خواہ وہ میری زندگی میں بھڑ کے یا میرے بعد بہر حال جب بھی بھڑ کے گی دنیا کو بھسم کر دے گی۔اس کا اندازہ یا