سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 182
178 حضور نے ایک عالمانہ خطاب سے اس کالج کا افتتاح فرمایا۔اس کا لج کو حضور کی خاص توجہ حاصل تھی۔حضرت مریم صدیقہ صاحبہ (چھوٹی آپا ) اس کالج کی ڈائریکٹرس تھیں اور تدریس کے فرائض بھی سرانجام دیتی تھیں۔اس کالج کی پہلی پرنسپل محترمہ فرخندہ شاہ صاحبہ مقرر ہوئیں۔یہ کالج احمدی مستورات میں خاص طور پر اور اس علاقہ کی مستورات میں عام طور پر تعلیم کو عام کرنے کا ایک بہت ہی مفید ذریعہ ثابت ہوا۔عام طور پر پردے کے طریق کو عورت کی تعلیم اور ترقی میں حارج سمجھا جاتا ہے مگر حضور نے اسے عملاً غلط ثابت کر دکھایا اور دنیا کے سامنے ایک مثال پیش فرما دی آپ اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔امسال یونیورسٹی کے امتحانات کے نتائج صرف ۲۲ فیصد نکلے لیکن ہمارے ربوہ کی لڑکیوں کے کالج ( جامعہ نصرت ) کا نتیجہ ۶۳ فیصد رہا اور ان پاس ہونے والی طالبات میں سے اکثر وہ ہیں جن کی فیس ہر ماہ میں خود ادا کرتا تھا وہ کالج کی فیس مہیا نہیں کر سکتی تھیں۔لوگ کہتے ہیں کہ کوئی قوم پردہ میں ترقی نہیں کر سکتی لیکن ہماری طرف دیکھو کہ ہماری بچیوں کو جو عور تیں پڑھاتی ہیں وہ بھی پردہ کی پابند ہیں۔خود میری اپنی بیوی کالج کی پرنسپل ہے وہ عربی میں ایم۔اے ہے اور وہ اس کام کا کچھ معاوضہ نہیں لیتیں۔لیکن وہ خود بھی پردہ کرتی ہیں اور لڑکیاں بھی پردہ کرتی ہیں اگر ضرورت کے موقع پر کالج میں بعض مرد تعلیم کے لئے لگائے جاتے ہیں تو وہ بھی پردہ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھاتے ہیں اور لڑکیاں بھی پردہ میں ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود یو نیورسٹی کے۲۲ فیصد نتائج کے مقابل میں ان کا نتیجہ ۶۳ فیصد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عورتیں جب کبھی پختہ عزم وارادہ کر لیں گی تو وہ علم حاصل کر لیں گی اور دنیا کو دکھا دیں گی کہ پردہ میں رہ کر بھی ہر چیز حاصل کی جاسکتی ہے الفضل ۹ - اگست ۱۹۵۵ء صفه ی۴ )