سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 178
174 اور کالج شروع کرو۔“ ( تاریخ احمدیت جلد دهم صفحه ۸۶) ان مخالف حالات میں بھی کالج نے ترقی اور شہرت کے مراحل طے کرنے شروع کر دیئے۔لمبے عرصہ تک متروکہ جائداد میں انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں محنت و قربانی کی شاندار مثالیں پیش کرتے ہوئے ربوہ میں کالج کی اپنی وسیع عمارت تیار ہوئی۔۶۔دسمبر ۱۹۵۴ء کو اس کا دلی دعاؤں سے افتتاح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : - اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بے سروسامانی میں کالج کے سامانوں کو مہیا کیا اور بے گھروں کو گھر دیا۔اب دعا ہے کہ جس طرح اس دنیا کا علم دیا اگلے جہان کا علم بھی دے اور جس طرح اس جہان کا گھر دیا اگلے جہان کا اچھا گھر بھی بخشے اور اس کالج میں پڑھنے والے سب طلبہ کو اپنی رضا ء پر چلنے ، اپنا فرض ادا کرنے اور ایثار و قربانی کا اعلیٰ نمونہ دکھانے کی توفیق بخشے۔“ حضور احمدی لڑکوں کے اس کالج میں داخلہ کو بہت ضروری سمجھتے تھے۔اس امر کی تلقین آپ نے اپنے پیغامات ، بیانات ، تقاریر اور خطبات میں متعدد دفعہ فرمائی۔ذیل میں صرف ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔وو۔۔۔۔وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ شبہات ہوا کرتے تھے کہ ہمارے کالج میں لڑکوں کی تعلیم کا زیادہ بہتر انتظام نہیں اب ان نتائج کے بعد ان کے شبہات دور ہو جانے چاہئیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے کالج کے نتائج سوائے ایک کے باقی تمام کالجوں سے زیادہ شاندار نکلے ہیں اور اب ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو حصول تعلیم کے لئے فوراً تعلیم الاسلام کالج میں داخل کرانے کی کوشش کریں۔اس بارہ میں کسی قسم کی غفلت اور کوتا ہی سے کام نہ لیں۔اس کا لج میں اپنے بچوں کو تعلیم کے لئے بھجوانا اس قدر ضروری اور اہم چیز ہے کہ میں تو سمجھتا ہوں جو شخص اپنے بچوں کو باوجود موقع میسر آنے کے اس کالج میں داخل نہیں کرتا وہ اپنے بچوں سے دشمنی کرتا ہے اور سلسلہ پر اپنے کامل ایمان کا ثبوت مہیا نہیں کرتا“ ( الفضل ۱۴۔ستمبر ۱۹۴۹ء صفحه ۵) جماعت کے علمی ذوق میں اضافہ اور تحقیق کے کاموں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے تعلیم الاسلام ریسرچ سوسائٹی ۱۸۔جنوری ۱۹۴۵ء کو شروع کی گئی طلبہ و اساتذہ میں علمی مذاق اور تحقیق