سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 176
172 یورپ کے فلسفہ اور یورپ کے تمدن پر غالب آجائے یہ لڑائی ہے جو اسلام اور یورپ میں جاری ہے۔یہ لڑائی ہے جو احمدیت اور یورپ کا فلسفہ آپس میں لڑنے الفضل ۳۱ مئی ۱۹۴۴ء صفحه ۶ ) والے ہیں۔اخلاص اور تقویٰ سے شروع ہونے والا اور دُور رس نتائج کا حامل یہ غیر معمولی کارنامہ جماعت سے باہر بھی بنظر تحسین دیکھا گیا اور اسے دوسروں کے سامنے بطور مثال پیش کیا گیا۔مسلمانوں کے ایک مشہور ثقہ اخبار کے مدیر شہیر مولانا عبدالمجید سالک نے لکھا: امام جماعت احمدیہ نے ڈھائی لاکھ روپے کے ابتدائی سرمائے سے فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کی اجازت دیدی ہے۔۔۔۔۔۔۔اس انسٹی ٹیوٹ کی لیبارٹریوں میں بہترین اور جدید آلات مہیا کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔بایوکیمیکل ریسرچ کے لئے الیکٹرون، خوردبین ، پروٹین اور کو لائیڈ ریجز کے خواص کی تحقیق کے لئے خاص آلہ تحلیل و تجزیہ کی علمیات کے لئے سپیکٹو گراف اور دوسرے آلات منگائے جا رہے ہیں۔اس وقت چھ ریسرچ اسٹمنٹ کام کر رہے ہیں۔یہ ہے وہ حقیقی کام جس کی ضرورت مسلمانوں کو شدت سے محسوس ہو رہی ہے لیکن اب تک ان کے کسی تعلیمی ادارے میں اس کام کی طرف کما حقہ توجہ نہیں کی گئی اگر قادیانیوں کو بُرا بھلا کہنے والوں کو اپنے اس جہاد لسانی کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کے تعمیری کاموں میں مسابقت کی تو فیق بھی ملتی تو کتنا اچھا ہوتا۔“ ( انقلاب لاہور ۲۰۔اپریل ۱۹۴۶ء۔بحوالہ الفضل ۲۵۔اپریل ۱۹۴۶ء صفحہ ۷ ) فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قادیان کا شاندار افتتاح“ کے عنوان سے روز نامہ الفضل نے لکھا:۔قادیان ۱۹۔اپریل۔آج صبح ساڑھے دس بجے جناب ڈاکٹر سرشانتی سروپ ڈائر یکٹر کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ بی۔ای۔ڈی۔ایس۔پی۔او۔ایس دوسرے معزز سائنسدانوں کے ساتھ بذریعہ کار بٹالہ سے تشریف لائے۔۔۔۔۴ بجے شام فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی لائبریری اور لیبارٹری کا تقریباً ۴۵ منٹ معائنہ فرمایا۔ان تمام معززین نے دورانِ معائنہ ہی اور اس کے بعد بھی کئی دفعہ خاص طور پر اظہار خوشنودی فرمایا نیز فرمایا کہ چند مہینوں وو