سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 168
164 تربیت اولاد کا سوال ہے جو عورتوں سے خاص طور پر تعلق رکھتا ہے اور کالج بھی قائم کرسکیں۔۔۔66 یہ حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ عورتیں تعلیم یافتہ نہ ہوں۔۔66 ( الفضل ۷ جولائی ۱۹۳۱ء صفحہ ۵ ) مروجہ طریق تعلیم کی اصلاح کے علاوہ نصاب تعلیم کی اصلاح کے لئے بھی آپ کے پاس معین لائحہ عمل تھا آپ فرماتے ہیں :- ہمیں اب تعلیمی نصاب کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور تعلیم کے نصاب میں خواہ وہ شاعری کا حصہ ہو یا نثر کا ہمیں نقائص دور کر کے اصلاح کرنی چاہئے۔ایک دفعہ ریڈیو پر ایک لیکچر ہوا جس میں پہلی دفعہ غیر از جماعت شخص کے منہ سے یہ دلیل میں نے سنی کہ ہمارے ہاں اردو کی تعلیم میں جو شاعری کا حصہ رکھا گیا ہے وہ اخلاق پر نہایت بُرا اثر ڈالتا ہے کیونکہ اس سے دلوں میں مایوسی پیدا ہوتی اور ہمتیں مُردہ ہو جاتی ہیں شاعری کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ وہ مخرب اخلاق ہے لیکن اس کے علاوہ ہماری شاعری کا یہ جو حصہ ہے کہ وہ مایوسی پیدا کر تا ہے یہ سب سے پہلے میں نے ہی لوگوں کے سامنے پیش کیا تھا مگر اب آہستہ آہستہ دوسروں پر بھی اس کا اثر ہو رہا ہے۔تعلیم پر کسی پروفیسر کا لیکچر تھا جس میں اس نے یہ پہلو بیان کیا۔پس ہمیں اپنے تعلیمی نصاب کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔بیشک ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہماری شاعری یہ سکھاتی ہے کہ اگر کوئی بد تحریک کرے تو اسے ضرور قبول کرو کیونکہ یہ وفا ہے اور اگر بد تحریک کو قبول نہیں کرو گے تو بے وفا بن جاؤ گے یہ حصہ بھی قابل اصلاح ہے اور اس کو دور کرنا چاہئے لیکن ایک بہت بڑا نقص ہماری شاعری میں یہ ہے کہ وہ مایوسی پیدا کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ جس سے تم محبت کرتے ہو وہ ظالم ہے اور تم مظلوم اور اب تمہارا یہی کام ہے کہ اس کے ظلم وستم کو برداشت کرتے جاؤ اور کبھی کامیابی کی امید نہ رکھو۔جیسا کہ عرفی نے کہا ہے۔عرفی اگر بگر یہ میسر شدے وصال صد سال می توان به تمنا گریستن۔۔۔۔۔۔پس شاعری کے لحاظ سے اور نثر کے لحاظ سے بھی ہمارے نصاب بدلنے چاہیں۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء صفحه ۱۵۲-۱۵۳)