سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 167 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 167

163 کہ ہم غور کریں عورتوں کو کیسی تعلیم کی ضرورت ہے۔ہمیں ہر قدم پر سوچنا اور احتیاط سے کام لینا چاہئے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے ، کرنا چاہئے اور ضرور کرنا چاہئے مگر غور اور فکر سے کام کرنا چاہئے۔ابتک ہماری طرف سے ستی ہوئی ہے ہمیں اب سے بہت پہلے اس پہلو پر غور کرنا چاہئے تھا اور اس کے لئے پروگرام تیار کرنا چاہئے تھا۔گو وہ پروگرام مکمل نہ ہوتا اور مکمل تو یک لخت قرآن شریف بھی نہ ہو گیا تھا۔پس یک لخت تو قدم او پر نہیں جاسکتا مگر قدم رکھنا ضرور چاہئے تھا۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء صفحہ ۵۸-۵۹) عورتوں میں دینی علوم کی تعلیم کو مقدم رکھنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔۱۹۲۵ء میں میں نے اس نیت سے کہ عورتوں کی تعلیم ایسے اصول پر ہو کہ دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم کی بھی تکمیل ہو سکے اور اس خیال سے کہ مذہبی تعلیم اپنے ساتھ دلچسپی اور دلکشی کے زیادہ سامان نہیں رکھتی اور بعد میں اس کا حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے مذہبی تعلیم کو پہلے رکھا تا کہ ایک حد تک دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لڑکیاں انگریزی تعلیم حاصل کر سکیں اور چونکہ اس سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے اس لئے یہ بڑی عمر میں بھی اگر حاصل کرنی پڑے تو گراں نہ گذرے گی۔لڑکیوں کے لئے پہلے عربی کی کلاسیں کھولیں اس وقت قادیان میں بھی ایسے لوگ تھے جو اس پر معترض تھے اور باہر بھی خاص کر پیغامی سیکشن نے بہت ہنسی اُڑائی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے پنجاب میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان میں یہ پہلی مثال ہے کہ اس کثرت سے مولوی کا امتحان ہماری جماعت کی لڑکیوں نے پاس کیا۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد زنانہ سکول کی لڑکیاں چونکہ ہائی کلاسوں کی تعلیم پاسکتی نہیں اس لئے مدرسہ ہائی کے استادوں کی امداد سے ہائی کلاسیں کھولی گئیں ان میں بھی خدا کے فضل سے اچھی کامیابی ہوئی اور اس سال کے طالبات انٹرنس کے امتحان میں کامیاب ہوئیں۔یہ بھی اپنی ذات میں پہلی مثال ہے کیونکہ کسی سکول سے سات مسلمان لڑکیاں آج تک ایک سال میں کامیاب نہیں ہوئیں۔۔۔۔میرا منشاء یہ ہے کہ اس تعلیم کو جاری رکھا جائے حتی کہ اتنی کثیر تعداد گریجوایٹ خواتین کی پیدا ہو جائے کہ ہم سکول میں یہی زنانہ سٹاف رکھ سکیں اور