سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 166 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 166

162 میں سے کوئی ایک بھی یہ نہ کہے گی کہ میں نے فلاں بات قرآن پر غور کرنے کے نتیجہ میں معلوم کی ہے۔کتنا بڑا اندھیر ہے کہ قرآن جو اپنے اندر خزانے رکھتا ہے اور سب بنی نوع انسان کے لئے یکساں ہے اس سے تم اس قدر لاعلم ہو۔اگر قرآن کا دروازہ تم پر بند ہے تو تم سے کس بات کی توقع ہو سکتی ہے۔“ (الازهار لذوات الخمار ایڈیشن دوم صفحه ۲۳۲ ۲۳۳) اس بنیادی اور اہم امر کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے آپ نہایت حکیمانہ انداز میں فرماتے ہیں :- ” میرے نزدیک عورتوں کی تعلیم ایسا اہم سوال ہے کہ کم از کم میں تو اس پر غور کرتے وقت حیران رہ جایا کرتا ہوں۔ایک طرف اس بات کی اہمیت اتنی بڑھتی چلی جارہی ہے کہ دنیا میں جو تغیرات ہو رہے ہیں یا آئندہ ہوں گے جن کی قرآن خبر معلوم ہوتی ہے ان کی وجہ سے وہ خیال مٹ رہا ہے جو عورت کے متعلق تھا کہ عورت شغل کے طور پر پیدا کی گئی ہے۔یا یہ خیال جس کی بنیاد واضح لفظوں میں بائیل نے رکھی تھی۔گویا عورت کو صرف مرد کی خوشی کے لئے پیدا کیا گیا۔اب یہ خیال مٹ رہا ہے لیکن دوسری طرف اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عورت کا میدانِ عمل مرد کے میدان عمل سے بالکل علیحدہ ہے۔یہ غلط ہے کہ کبھی کسی عورت کو مرد کی طرح آزادانہ کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔جولوگ تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ آج سے ہزاروں سال پہلے ایسے زمانے گذرے ہیں کہ عورت کے لئے ایسا ہی موقع تھا جیسا کہ مرد کے لئے مگر عورت پوری نہ انتری۔اور جب تک عورت کے ذمہ بچہ کی پیدائش اور تربیت ہے اس وقت تک مرد و عورت کا میدانِ عمل ایک نہیں ہو سکتا۔اور بچہ پیدا ہونے کی فطرت کا بدلنا انسانی طاقت سے بالا ہے۔۔۔۔پس ایک طرف عورتوں کی تعلیم کی اہمیت اور دوسری طرف یہ حالت کہ ان کا میدانِ عمل جدا گانہ ہے۔یہ ایسے امور ہیں جن پر غور کرتے ہوئے نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے دوسروں کا نقال نہیں بنایا بلکہ دنیا کے لئے راہنما بنایا ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے اس لئے کھڑا کیا ہے کہ ہم دنیا کی راہنمائی کریں نہ یہ کہ دوسروں کی نقل کریں اس لئے ضروری ہے