سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 163 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 163

159 کوشش کرو اگر ہم قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق یہ اشتیاق رکھتے کہ ہم دوسروں سے آگے بڑھ کر رہیں، اگر ہم میں سے ہر شخص اشتیاق کی روح کو اپنے اندر قائم رکھتا تو آج ہم میں سے ہر شخص بڑے سے بڑا محدث ہوتا۔بڑے سے بڑا مفسر قرآن ہوتا۔بڑے سے بڑا عالم دین ہوتا۔۔۔ان میں سے کسی کی موت جماعت کے لئے پریشانی کا موجب نہیں ہوسکتی۔درحقیقت زندہ قوم کی علامت ہی یہی ہے کہ اس کے اندر اس قدر علماء کی کثرت ہوتی ہے کہ کسی ایک کے فوت ہونے پر اسے ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ آئندہ کام کس طرح چلے گا۔بے شک شخصی لحاظ سے ایک شخص کی وفات دکھ اور رنج کا موجب ہوسکتی ہے اور ہمیشہ ہوتی ہے مگر بہر حال یہ ایک شخصی سوال ہوگا قومی سوال نہیں ہوگا۔بہر حال کسی قوم کی زندگی کی یہ علامت ہے کہ اس میں علم کی کثرت ہو، اس میں علماء کی کثرت ہو، اس میں ایسے نفوس کی کثرت ہو جو قوم کے سرکردہ افراد کے مرنے پر اسی وقت ان کی جگہ کو پُر کرنے کے لئے تیار ہوں۔مسلمانوں کے تنزیل اور ان کے ادبار کا سب سے بڑا باعث یہی ہوا کہ جب ابوبکر فوت ہو گیا تو دوسرا ابوبکر پیدا نہ ہوا۔۔۔اب ہم نے یہ تغیر پیدا کرنا ہے کہ جب ایک ابوبکر مرے تو اسی وقت دوسرا پھر تیسرا ابو بکر پیدا ہو جائے۔۔۔۔جو قوم اس مقام پر آ جائے وہ کبھی مرنہیں سکتی ، وہ کبھی مٹ نہیں سکتی ، وہ کبھی فنا اور بر باد نہیں ہوسکتی ، وہ زندہ رہتی ہے، وہ ابدی حیات پاتی ہے اور وہی قوم ہے جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں خاتم الاقوام کہلاتی ہے۔میری طرف سے اب یہ کوشش کی جارہی ہے کہ جماعت میں ایسے لوگ پیدا ہوں جو اہم علوم کے ماہر ہوں تا کہ ہم اپنی اس حقیر کوشش کے ذریعہ ایک ایسا پیج قائم کر دیں جو آئندہ ترقی کر کے جماعت کے لئے با برکت اور مفید ثابت ہو سکے۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء صفحه ۱۷۱ تا ۱۷۶) علمی ترقی کے لئے جذبہ مسابقت کو اُبھارتے ہوئے آپ نے فرمایا :- پس ترقی کے لئے ہر علم کے آدمیوں کا قوم میں موجود ہونا ضروری ہوتا ہے جس قانون سے کوئی آزاد نہیں ہوا ہم اس سے کس طرح آزاد ہو سکتے ہیں۔ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہماری جماعت میں ہر قسم کے آدمی ہوں اور