سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 133
133 ہم جو برطانوی حکومت کے ماتحت رہتے ہیں ہمارا تعاون حکومت برطانیہ کے ساتھ ہوگا اور ہم اپنے عمل سے دنیا پر یہ بات ثابت کر دیں گے کہ ہمارا حکومت برطانیہ کے ساتھ تعاون کسی خوشامد یا لالچ کی وجہ سے نہیں بلکہ مذہبی تعلیم کی وجہ سے ہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوں گے کہ ہم اپنے حقوق کو بُھول جائیں۔میں احمدیت کی عزت کی خاطر مقامی افسروں سے اگر وہ اپنے برے رویہ کو ترک نہ کریں گے برابر لڑتا رہوں گا اور جب تک احمد یہ جماعت کی عزت کو قائم نہ کر لوں گا ان سے صلح نہ کروں گا کیونکہ میرے نزدیک احمدیہ جماعت کی عزت برطانیہ کی عزت سے بہت زیادہ ہے اور جو افسر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت کے ساتھ جماعت احمدیہ کو ڈرا لیں گے وہ ایک دن ذلیل ہو کر اپنی غلطی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے۔میں احسان کے ساتھ ان سے بدلہ لوں گا اور خود ان کی قوم سے ان کے خلاف ملامت کا اظہار کر وا کے چھوڑوں گا إِنْشَاءَ اللهُ تَعَالَى وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الَّذِى هُوَ مُوَفِّقِى وَ مُؤَيِّدِي وَنَاصِرِى “ الفضل ۱۷۔فروری ۱۹۳۹ء صفحه ۱۲) مہاراجہ کشمیر کے سیکرٹری نے عزت نفس کے خلاف طریق اختیار کیا تو آپ نے اسلامی غیرت وعزت کا خیال کرتے ہوئے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ایک موقع پر کشمیر کمیٹی کے دباؤ کی وجہ سے سر ہری کشن کول نے لکھا کہ آپ اپنے سیکرٹری کو مہاراجہ کی ملاقات کے لئے بھجواد ہیں۔حضور نے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو بھجوا دیا مگر مہا راجہ نے ملاقات سے پہلو تہی اختیار کر لی اس پر چوہدری صاحب حضور کی اجازت سے واپس تشریف لے آئے۔اس کے بعد کول صاحب کا خط آیا کہ مہاراجہ ملنا تو چاہتے تھے مگر وہ کہتے تھے کہ مرزا صاحب خود آتے تو میں ان سے مل لیتا ان کے سیکرٹری سے ملاقات کرنے میں تو میری ہتک ہے۔اس کے چند دن بعد حضور لا ہور تشریف لے گئے تو کول صاحب ملاقات کرنے آئے میں نے ان سے کہلوا دیا کہ مہاراجہ صاحب خود آتے تو میں ان سے مل بھی لیتا آپ تو ان کے سیکرٹری ہیں اور آپ سے ملنے میں میری ہت ہے۔۔۔اس سے قبل حضور کئی دفعہ سر ہری کشن کول سے مل چکے تھے مگر اسلام کے لئے غیرت اور اصول پسندی کی وجہ سے آپ نے مہاراجہ کے سیکرٹری سے ملنے سے انکار کر دیا۔( خلاصه از الموعود )