سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 122
122 گا۔ہوئے آپ فرماتے ہیں :- احرار دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے اٹھارہ گھماؤں زمین قادیان میں خریدی ہوئی ہے۔۔۔اب جن مقامی غیر احمدیوں کا خیال ہے کہ وہ ”پاک“ ہیں اور احمدی نجس ہیں۔احرار اپنی خرید کردہ زمین میں سے ایک گھماؤں زمین قبرستان کیلئے ان کو دیدیں اس زمین کی قیمت میں ادا کردوں لیکن اگر ان کے دوست اور ان کو اُکسانے والے جن کے پاس مسلمانوں کے چندے سے ہی خریدی ہوئی زمین موجود ہے مجھ سے قیمت لے کر بھی ان کو زمین دینے کے لئے تیار نہ ہوں تو وہ مجھے لکھدیں کہ احرار قیمتاً بھی ہمیں زمین نہیں دیتے پھر میں ان کو خود زمین دے دوں گا۔حکومت پنجاب کے وہ افسر جو احرار کی ہمدردی میں گھلے جا رہے ہیں اور ہمارا اپنے حقوق لینا انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتا ان کی مدد نہ کریں ، ان کے بھائی یعنی احرار ان کی طرف توجہ نہ کریں تو وہ میرے پاس آئیں میں پھر بھی ان کی مدد کروں گا۔میں دولتمند نہیں ہوں بیشک قادیان کے مالکوں میں سے ہوں اور اس کے علاوہ بھی تین گاؤں کا ہمارا خاندان مالک ہے مگر آمد کے لحاظ سے ہم دولتمند نہیں ہیں تا ہم جب مائی باپ مدد سے ہاتھ اُٹھا لیں اور جب برادر پیٹھ دکھا جا ئیں اس وقت میں ان کے خیال میں جو ان کا دشمن ہوں ان کی مدد کروں گا“ (الفضل یکم جولائی ۱۹۳۶ء صفحہ ۶۵) دشمن سے حسن سلوک اس طرح کا ایک واقعہ مکرم صاحبزادہ مرزا رفیق احمدصاحہ طرح ایک صاحب بیان کرتے ہیں :- ۱۹۵۱ ء یا ۱۹۵۲ء کا ذکر ہے کہ محترم خلیفہ شجاع الدین پنجاب اسمبلی کی پیکر شپ کے امیدوار تھے ، اس سلسلے میں آپ ربوہ آئے اور چونکہ حضرت امی جان (سیدہ ام ناصر ) کی ان سے قریبی رشتہ داری بھی تھی ، تو سید ھے آپ کو آکر پیغام بھجوایا کہ میں نے حضرت صاحب سے ملنا ہے مجھے وقت لے دیں۔امی جان نے دینی غیرت کی وجہ سے جواب دیا۔یوں تو آپ میرے خاوند کو گالیاں دیتے ہیں مگر جب کام ہوتا ہے تو