سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 100
100 میں یہ پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے اور موجودہ تنخواہ کیا ہے اور کیا کام کرتے ہو اور مجھے منتخب کر لیا۔میں نے اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ادا کیا اور نیم پاگل سا ہو گیا کیونکہ میں گھبرا تا تھا کہ اس پوسٹ پر سب کام انگریزی میں کرنا ہے اور مجھے انگریزی آتی نہیں میں کیا کام کروں گا لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے انگریزی بھی خود سکھا دی۔ابھی میری ملازمت کے قریباً ۶ ماہ ہی گزرے تھے کہ میرے افسر نے میری ڈائری بطور نمونہ سب انسپکٹروں کے پاس بھیجی اور ان کو ہدایت کی کہ ایسا کام کیا کرو۔۱۹۳۲ء میں پھر ریلوے میں ECONOMY شروع ہو گئی اور لاہور سے حکم آگیا کہ سب انسپکٹروں کی اسامی کے لئے چانس دیا جائے گا۔اور حضور کو دعا کے لئے تار دیا چنانچہ حضور کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے مجھے کامیاب کیا۔الفضل ۱۸۔جنوری ۱۹۴۰ ، صفحہ ۹) ایک غم زدہ احمدی کی دلجوئی اور قبولیت دعا کی ایمان افروز مثال۔مکرم ڈاکٹر کریم الدین صاحب میڈیکل آفیسر پیہ ضلع گجرات لکھتے ہیں :- اوائل نومبر ۱۹۳۳ء میں خاکسار کا اکلوتا لڑکا فوت ہو گیا۔خاکسار جب سالانہ جلسہ ۱۹۳۳ء پر قادیان گیا تو حضرت اقدس کی خدمت میں ایک دستی عریضہ پیش کیا جس میں عزیز کی وفات کا ذکر کر کے دعا کی التجا کی۔حضور کی طبیعت اس دن علیل تھی اور ویسے بھی جلسہ کے دنوں میں حضور نہایت مصروف ہوتے ہیں اس لئے کسی جواب کی توقع نہ تھی لیکن حضور نے نہایت شفقت اور ذرہ نوازی فرماتے ہوئے مندرجہ ذیل کلمات اپنے دست مبارک سے رقم فرما کر عطا فرمائے :- عزیزم مکرم ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ عزیز کی وفات کا بہت افسوس ہوا اللہ تعالیٰ اس کا نعم البدل عطا فرمائیں اور سب عزیزوں کو صبر جمیل کی توفیق دیں۔اپنے گھر میں تسلی دلائیں کہ اِنشَاءَ اللهُ تعالی اس سے اچھا اور زندہ رہنے والا بچہ اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا۔مَا نَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُفْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا ( البقرۃ: ۱۰۷) کے ایک یہ بھی معنی ہیں۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد