سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 93 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 93

93 غرض حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے میرے متعلق جو دعا فرمائی اور حضور کو خدا تعالیٰ نے اس معاملہ میں جو بتلایا وہ حرف بحرف صحیح ثابت ہوا۔حضور نے جو یہ فرمایا تھا کہ ثالث اگر نقصان بھی پہنچانا چاہیں گے تو نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔اس کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے مقدمہ کا فیصلہ ہو جانے کے بعد میں ایک ثالث صاحب کے پاس جو پارسی تھے گیا اور ان سے دریافت کیا کہ آپ لوگوں نے ہمارے مقدمہ کا جو فیصلہ کیا ہے کیا وہ تینوں کی اتفاق رائے سے ہوا یا آپ کے درمیان کچھ اختلاف بھی ہوا۔انہوں نے فرمایا مقدمہ کے تمام اشُوز (Issues) کا فیصلہ ہم تینوں کے اتفاق رائے سے ہوا۔صرف آپ کے متعلق اختلاف تھا۔بمبئی والی جائداد کے منافع سے آپ نے ۱۶۰۰۰ روپیہ جو قادیان روانہ کیا دو ثالثوں کی یہ رائے تھی کہ وہ رقم آپ کے ذمہ لگائی جائے۔میں نے ان سے اتفاق نہ کیا۔صرف اس ایک اشو (Issue) کے لئے ہمیں تین بار میٹنگ کرنی پڑی آخر وہ میرے ساتھ متفق ہو گئے۔غرض میرا بار بار کا تجربہ ہے کہ جو شخص سلسلہ احمدیہ میں شریک ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے ایسے محبوب خلیفہ سے اپنا تعلق جوڑتا ہے جس کی دعا سے انسان یقیناً دونوں جہان میں فلاح پاتا ہے۔(الفضل ۲۸ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۵۵٬۵۴) عبد السلام زرگر صاحب کا بیان ہے کہ ان کے بھائی نور محمد صاحب جو شیعہ خیالات رکھتے تھے کوئی۔بی کا عارضہ لاحق ہو گیا ( اس زمانہ میں اس موذی مرض کا کوئی علاج نہیں ہوتا تھا اس بیماری میں مبتلا مریض بالعموم بڑی تکالیف اور پریشانیوں سے دو چار ہو کر راہی ملک عدم ہو جاتا تھا ) ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر اجتماعی ملاقات میں ان کے والد صاحب نے حضور کی خدمت میں دعا کی درخواست کی اور برکت کے لئے ان کے جسم پر حضور کا ہاتھ پھر وایا۔خود نور محمد صاحب نے بڑی عاجزی سے دعا کی درخواست کی اور عرض کی کہ حضور اگر مجھے صحت ہو جائے تو یہ آپ کی قبولیت دعا کا ایک نشان اور معجزہ ہی ہوگا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے انہیں صحت ہو گئی۔اس کے بعد جب بھی ہم میں سے کوئی حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور ہمیشہ ہی دریافت فرماتے کہ آپ کے اس عزیز کا کیا حال ہے جو اعجازی نشان مانگتا تھا۔