سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 92 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 92

92 نقصان تھا۔میں بہت گھبرایا اور میں نے حضرت (خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی خدمت میں سارا حال لکھ کر خاص دعا کے لئے گزارش کی۔اس پر خدا کے فضل وکرم سے معاملہ کی صورت ایسی بدل گئی۔کہ ۴۸ ہزار روپیہ نقصان کے عوض ہیں ہزار روپیہ منافع ہوا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ (۸) ہمارے دونوں بھائی جب بڑے اور سمجھدار ہو گئے تو ہم چاروں نے باہمی رضامندی سے ایک شراکت نامہ تیار کیا جس کی مدت دس سال رکھی۔ہماری فرم کا قدیم سے یہ دستور تھا کہ تجارت کے نفع و نقصان کا حساب ہر ماہ نکالتے تھے اور ہر چھ ماہ کے بعد کھاتوں میں درج کیا جاتا تھا اور سالانہ حساب دیکھ کر ہم سب بھائی دستخط کر کے اس کی تصدیق کرتے تھے اس طرح دس سال ختم ہو گئے۔جب نیا شراکت نامہ طے کرنے کا وقت آیا دونوں بھائیوں نے انکار کر دیا اور مجھ سے اور خان بہا در احمد بھائی صاحب سے ایک ایک لاکھ روپیہ سے زائد رقم کا مطالبہ کیا۔جب یہ اختلاف آپس میں دور نہ ہو سکا تو اس کے فیصلہ کے لئے تین مشہور و معروف قانون دان ثالثوں کا ایک بورڈ قائم کیا گیا ہر ایک کو ایک ایک ہزار روپیہ فیس دی گئی۔میں نے تمام حقیقت صحیح صحیح حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں لکھ بھیجی اور خاص دعا کے لئے گزارش کی۔حضور نے جواب میں فرمایا آپ بالکل بے فکر رہیں آپ کو کوئی نقصان نہ ہوگا بلکہ آپ کے حق میں فائدہ ہوگا۔اگر ثالث بھی آپ کو نقصان پہنچانا چاہیں تو ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔اس سے بہت تعجب ہوا کیونکہ ثالث جو چاہے فیصلہ کر سکتے تھے ان کے فیصلہ کے خلاف اپیل بھی نہیں ہو سکتی تھی پھر ان کو میرے خلاف فیصلہ کرنے سے کون روک سکتا ہے سوائے خدا تعالیٰ کے مگر وہی ہوا جو حضور نے فرمایا تھا۔ثالثوں نے تمام حساب کی کامل تحقیق کی اور اس پر ایک سال کا عرصہ صرف کیا۔میرے خلاف ۱۱۴۷۸۳ روپیہ کے دعوے تھے۔آخر تمام کے تمام دعوے خارج کر دئیے اور صرف سفر خرچ کے متعلق ۱۳۰۹ روپیہ کی ڈگری کی مگر دوسرے فریق کے خلاف بھی سفر خرچ وغیرہ کی ڈگری ہوئی جس کے نتیجہ میں مجھے ۳۴۱۴ روپے منافع ہوا۔