سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 69
69 نے عرش کے پائے ہلا دیئے ہوں گے۔ضرور ہی دن چڑھتے چڑھتے اللہ تعالیٰ نوید سنائے گا۔آپ کی یہ دعارات کے سکوت میں اس قدر بلند تھی کہ میں سمجھتی تھی کہ یہ آواز ہمارے ارد گرد بچوں کے گھروں تک ضرور پہنچی ہوگی۔چنانچہ جب دن چڑہا اور ڈاک کا وقت ہوا تو پہلا تار جو ملا وہ یہ خوشخبری لئے ہوئے تھا کہ حضرت میاں صاحب اور عزیز محترم میاں ناصر احمد صاحب رہا ہو چکے ہیں۔کتنی جلدی میرے خدا نے مجھے قبولیت دعا کا معجزہ دکھایا الْحَمْدُ لِلَّهِ - نادان دشمن اپنا یہ حربہ استعمال کر کے خوش تھا کہ وہ آپ کی عزت پر اس طور سے حرف گیر تو ہوا۔لیکن منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اَنَا الْحَق کے جرم میں دار پر چڑھ کر وہ رتبہ پایا کہ دشمن ہمیشہ کے لئے خائب و خاسر ہو کر رہ گیا۔الفضل فضل عمر نمبر ۲۶ مارچ ۱۹۶۶ء صفحہ ا - ب ) اللہ تعالی کی طرف سے آپکے مقام ومرتبہ کی کی مخلصین کوخبر دی گئی محترم سردار عبد الحق شاکر صاحب اپنا ایک کشفی نظارہ بیان کرتے ہیں :- ۱۹۴۷ء کے آخری چار مہینے بڑے خطرے کے مہینے تھے، ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے مخالفت زوروں پر تھی اور قادیان کی مقدس بستی پر حملہ آور ہونے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ایک رات اور آور۔۱۲ بجے کے قریب سیدنا حضرت امصلح الموعود کی طرف سے تمام محلہ جات کے صدر صاحبان کو پیغام موصول ہوا کہ چونکہ ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے خطرہ بڑھ گیا ہے لہذا تمام عورتیں اور بچے تیار رہیں تا کہ صبح ہوتے ہی انہیں کسی محفوظ جگہ پر پہنچا دیا جائے۔ہماری رہائش ان دنوں محلہ ناصر آباد متصل بہشتی مقبرہ میں تھی۔حضور کی طرف سے جب مذکورہ بالا پیغام موصول ہوا تو میرا دل بہت ہی بیقرار اور بے چین ہو گیا۔رات سخت گھبراہٹ اور فکر میں گذری اور اس فکر میں میری نیند بھی اُڑ گئی۔اس گھبراہٹ اور بے چینی کے عالم میں میں نے ایک کشفی نظارہ دیکھا کہ :- ایک بہت وسیع اور اونچا پہاڑ ہے اس پہاڑ پر قادیان آباد ہے۔اس پہاڑ پر نیچے سے لیکر اس کی چوٹی تک سونے کے یعنی سنہری مکان بنے ہوئے ہیں۔اس پہاڑ کی وسطی چوٹی پر ایک بلند اور عالیشان مکان ہے اس مکان کے اوپر سید نا حضرت المصلح الموعود کعبہ کی طرف اپنا منہ کر کے کھڑے ہیں میں اس نظارہ کو بڑے غور اور توجہ سے دیکھ رہا ہوں اور اسی دوران میں نے دیکھا کہ میرے پاس سفید لباس پہنے ہوئے ایک شخص کھڑا ہے اور یہ شخص مجھے مخاطب ہو کر کہتا ہے:۔