سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 593 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 593

529 اس بیان میں جن علمی مسائل کے متعلق رہنمائی حاصل کرنے کا ذکر ہے اس کی کسی قدر تفصیل پروفیسر سید اختر احمد صاحب اور مینوی صاحب کی تحریر میں موجود ہے اس کا یہاں بیان کرنا بھی دلچسپی کا باعث ہو گا : وو۔۔۔میں ۱۹۳۴ء سے ہی ایسے معلموں اور دوستوں کے ساتھ رہا جن کے ذریعہ مجھے کمیونزم سے خاصی واقفیت ہو گئی ایک دور ایسا بھی آیا کہ میرے دل میں اسلام کے اقتصادی نظام کی تفصیل جاننے کی بڑی تیز خواہش پیدا ہوئی اور کچھ اعتراضات بھی دل میں پیدا ہوئے۔میں نے کئی علماء سے اپنی ذہنی الجھن کا ذکر کیا لیکن مجھے کوئی تسلی نہ دے سکا آخرش میں ۱۹۴۱ء میں اپنی تشنگی دور کرنے قادیان دارالامان گیا میری بڑی خوش قسمتی تھی کہ مجھے دربار خلافت میں باریابی حاصل ہوئی اور میں نے اقتصادی مسائل اور کمیونزم کا ذکر حضور کے سامنے شروع کر دیا اور اپنی ذہنی پریشانیوں کی بات بھی کی۔سید نا حضرت مصلح موعود نے آدھے گھنٹے کے اندر میرے بنیادی سوالات و شبہات اور اعتراض کے نہایت تسلی بخش حل سے مجھے نوازا۔میں نے یہ محسوس کیا کہ میرے ذہن کی نئی کھڑکیاں کھل گئی ہیں۔میں دربارِ خلافت سے بہت ہی مطمئن واپس آیا۔میرے ساتھ مکرم پروفیسر علی احمد صاحب بھاگلپوری بھی تھے۔مجھے آج تک حضرت محمود کا حسین۔پیارا اور متبسم چہرہ یاد ہے۔کس طرح حضور نے اپنے ایک نا چیز غلام کی باتوں کو مسکراتے ہوئے بڑی توجہ سے سنا اور پھر کس پیار سے آپ نے میری تشنگی دور فرمائی۔مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ آپ کی گفتگو میں ایک نور کی بجلی اور رُو د کوثر کی روانی ہے۔آپ تیز تیز بول رہے تھے لیکن آواز میں تندی یا تلخی نہیں تھی بلکہ بے حد کشش تھی۔۔حضور کی ملاقاتوں کی پیاری یادوں میں ایک مشہور دانشور صحافی اور ادیب جناب ابوظفر نازش رضوی کی ایک ملاقات کا ذکر انہی کی زبانی دلچسپی کا موجب ہو گا۔یادر ہے کہ موصوف جماعت میں شامل نہیں ہوئے تھے اس طرح ان کے اس ہدیہ عقیدت کو خاص مقام حاصل ہو جاتا ہے اور حضور کی کامیاب زندگی کے کئی درخشندہ پہلو نمایاں ہوتے ہیں وہ لکھتے ہیں :- " حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ سے میری پہلی