سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 571 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 571

513 نے اوپر چڑھائی کی طرف چڑھنا شروع کیا۔حضور طبعا یہ سمجھتے تھے کہ میں حضور کی خدمت میں ساتھ ساتھ رہوں گا خصوصاً جبکہ کوئی شخص ساتھ نہیں مگر میں تو کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔حضور دو تین قدم اوپر کی طرف چلے گئے اور میں اپنی جگہ پر ہی جما رہا اور ذرا نہ ہلا۔یکدم حضور نے مڑ کر دیکھا اور حیران ہو کر پوچھا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے میرے ساتھ کیوں نہیں آتے۔میں نے عرض کیا حضور ہی نے تو مجھے ڈاکٹر صاحب کے سپرد کر دیا ہے۔ان کا آرڈر ہے کہ بالکل حرکت نہیں کرنی، نہ سیر کرنی ہے، بس لیٹے ہی رہو یا بس گھر کے ارد گرد کچھ چل پھر لو سیر کو نہیں جا سکتے۔اس پر حضور نے فرمایا۔ڈاکٹر صاحب یونہی کرتے ہیں۔پہاڑ پر آ کر اگر سیر نہیں کرنی تو اور کیا کرنا ہے۔ادھر آؤ اور میرے ساتھ چلو اور صبح اُٹھ کر سامنے پہاڑی کا round دوڑ کر کیا کرو۔تمہارا دم بھی پکا ہو۔مجھے تو اسی ارشاد کی خواہش تھی کہ بس حضور ڈاکٹر صاحب کے حکم کو cancel کر دیں۔سو ایسا ہی ہوا اور خاکسار بڑی خوشی خوشی حضور کے ساتھ سیر کو چل پڑا۔آگے چل کر سیر میں محترم ڈاکٹر صاحب بھی مل گئے مجھے دیکھ کر چیں بہ جبیں ہوئے۔میں نے کہا کہ حضور کا حکم تھا کہ سیر کو ساتھ چلو، میں آ گیا۔میں نے زور سے ذرا بلند آواز سے کہا کہ حضور بھی سُن لیں۔حضور نے میری تصدیق کی اور فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب اس سے روزانہ دوڑ لگوایا کریں (مفہوم) میری خوشی کی انتہاء نہ رہی۔یہی میں چاہتا تھا۔نمازوں میں بعض اوقات حضور کے بالکل ساتھ کھڑا ہوتا۔حضور کے قرب اور معیت کے احساس کی وجہ سے یوں معلوم ہوتا کہ آسمان کی طرف پرواز کر رہا ہوں۔بس کچھ ایسی پُر مسرت حالت تھی کہ اسے الفاظ کا جامہ پہنانا میرے بس میں نہیں۔انہی دنوں حضور نے صاحبزادگان کو ایک دن رات کے لئے کھجیار کے پُر فضا مقام پر جا کر قیام کرنے اور سیر کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔مجھے حضور کی طرف سے یہ ارشاد موصول ہوا۔بشارت صاحب آپ کل عزیزان خلیل احمد ، رفیع احمد ، وسیم احمد ، حفیظ احمد ، طاہر احمد، انور احمد اور کریم بخش ( ڈاکٹر ////