سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 546 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 546

488 کے اتصال اور ان کے قلوب کی یگانگت پر کسی اور جماعت یا اور تعلق کا قیاس کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے؟ غرض کہ اس سفر نے اس پوشیدہ محبت کو جو احمدی جماعت کو مجھ سے تھی اور مجھے ان سے تھی نکال کر باہر کر دیا اور ہمارے چھپے ہوئے راز ظاہر ہو گئے۔اور ان کا ظاہر ہونے کا حق بھی تھا۔نہاں کے ماند آن رازے کزو سازند محفلها اے عزیز و! میں آپ سے دور ہوں مگر جسم دور ہے روح نہیں۔میرا جسم کا ذرہ ذرہ اور میری روح کی ہر طاقت تمہارے لئے دعا میں مشغول ہے۔اور سوتے جاگتے میرا دل تمہاری بھلائی کی فکر میں ہے۔میں اپنے مقصد کے متعلق جہاز میں ہی ایک حصہ کا فیصلہ کر چکا ہوں اور اپنے وقت پر اس کو ظاہر کروں گا۔مگر میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ مجھے جس قدر ہندوستان میں یقین تھا کہ اگر اسلام پھیل سکتا ہے تو آپ لوگوں کے ذریعہ سے اب اس سے بہت زیادہ یقین ہے۔آہ! تم ہی وہ خدا کا عرش ہو جس پر سے خدا تعالیٰ حکومت کر رہا ہے تم کو خدا نے نور دیا ہے جبکہ دنیا اندھیروں میں ہے تم کو خدا نے ہمت دی ہے جبکہ دنیا مایوسیوں کا شکار ہو رہی ہے تم کو خدا تعالیٰ نے برکت دی ہے جبکہ دنیا اس کے غضب کو اپنے پر نازل کر رہی ہے اور کیوں نہ ہو تم خدا کی پاک جماعت ہو تمہارے دل اس کے عرش ہیں۔آہ! اندھی دنیا کو کیا معلوم ہے کہ جب ایک احمدی ان کے محلہ میں پھرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کا سورج ہے جو اس کے ظلمت کدہ کو منور کر رہا ہے مگر اندھے کو روشنی کون دکھائے؟ خوبصورت چہرہ بدصورت کے مقابلہ پر زیادہ بھلا معلوم ہوتا ہے اور میں دنیا کو دیکھ کر اس جماعت کی خوبصورتی کو دیکھتا ہوں کاش! لوگ میری آنکھیں لیتے اور پھر دیکھتے۔کاش! لوگوں کو میرے کان ملتے اور پھر وہ سنتے تب وہ تم میں وہ کچھ دیکھتے جس کے دیکھنے اور سننے کی انہیں امید نہ تھی مگر ہر امر کے لئے ایک وقت ہوتا ہے۔وہ دن آتے ہیں کہ جب مسیح موعود کی قوت قدسیہ لوگ دیکھیں گے کاش! ہم بھی اس دن کو جو خدا کے پہلوان کی فتح کا دن ہوگا ، دیکھیں۔