سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 535
477 66 توفیق دے کہ ہم آپ کے بچے جانثار مرید ہوں۔“ الفضل ۱۷ جنوری ۱۹۲۵ء صفحه ۴) جناب مرزا احمد بیگ صاحب سیالکوٹ تحریر کرتے ہیں :- آج کئی روز سے الفضل میں یا سلسلہ کے کسی اخبار میں حضور انور کی صحت مزاج کا تار شائع نہیں ہوا اور چونکہ پہلے کے شائع شدہ خطوط و حالات میں حضور پُر نور کی بیماری کا ذکر ہے اس لئے نہایت فکر ہو رہا ہے اور جو محبت حضور کے ساتھ حضور کے خدام کو ہے اس کا خیال کر کے حضور انور کو بھی محسوس ہوتا ہوگا کہ حضور کی خیریت کا جلد جلد نہ پہنچنا خدام کو کس قدر مضطرب و مغموم کرتا ہوگا۔خدام تو حضور کے فراق میں اس قدر بے قرار و بے تاب ہیں کہ اگر ان کے بس میں ہو تو وہ چاہتے ہیں کہ ہر لمحہ حضور کی خیریت کی خبر پہنچتی رہے۔میں جولائی میں قادیان گیا تھا۔حضور کی خیریت مزاج اقدس کی تار آئے چند روز ہو گئے تھے۔حضور کی خدمت میں تاریں روانہ کی گئی تھیں جن کا کوئی جواب نہیں آیا تھا۔بے چینی اور بے تابی کا یہ عالم تھا کہ ہر کہہ ومہ مغموم اور متفکر تھا اور زبانوں پر حضور ہی کا تذکرہ۔میرے پیارے ! خدا را ہم عاجزوں پر خادم نوازی فرما کر اپنی صحت مزاج سے جلد جلد بذریعہ تار مطلع فرمایا کریں تا کہ خدام کے لئے فراق کا صدمہ کچھ تو کم ہو۔“ الفضل ۱۷۔جنوری ۱۹۲۵ء صفحہ ۴ ) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔ایک معروف صحابی اور جماعت کے اولین صحافی اس سفر کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- میں قدس کے حالات بیان کرنے سے پہلے دو باتوں کا ذکر اگر نہیں کروں گا تو بہت بڑی فروگذاشت کے جرم کا ارتکاب کروں گا وہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی سیرت کا ایک صفحہ ہے غالباً ۱۹۱۳ ء میں حضرت خلیفتہ المسیح نے ایک نظم لکھی تھی۔بے وفاؤں میں نہیں ہوں میں وفاداروں میں ہوں حقیقت سے ناواقف اسے ایک شاعرانہ کلام کہہ دیتے ہیں مگر واقعات سے آشنا اس حقیقت کو آئینہ عمل میں دیکھ سکتا ہے حضرت خلیفہ المسیح کی وفا کی