سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 500
442 ۲۷۔جنوری ۱۹۳۸ء کو جب میرے والد بابوعبدالغفور صاحب کا انتقال ہوا۔تو میرے ماموں منشی نور محمد صاحب نے حضور کی خدمت میں ان کی فوتیدگی کی اطلاع دے دی۔اس کے بعد ہم لوگ تو ابھی اپنے چا عبدالرحیم صاحب درویش قادیان) کے انتظار میں تھے حضرت مصلح موعود خود بہشتی مقبرہ میں تشریف لے گئے اور وہاں سے ہمیں اطلاع دی کہ مجھے ابھی تک جنازے کے آنے کی اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔میرے ماموں جان اسی وقت جنازہ لے کر بہشتی مقبرہ پہنچے حضور نے نماز جنازہ پڑھائی اور قبر کی تیاری کے دوران بھی حضور و ہیں تشریف فرما ر ہے پھر دعا کروانے کے بعد واپس تشریف لے گئے۔تیسرے دن حضور نے قصرِ خلافت سے ایک آدمی کے ذریعہ ہماری خیریت دریافت فرمائی اور کہا کہ ان کی والدہ پہلے وفات پاچکی ہیں ، والد صاحب اب فوت ہو گئے ، لہذا بچے اکیلے کیسے رہ رہے ہیں ان کو یا تو ان کے ماموں پاس رکھیں یا چا اپنے ساتھ لے جائیں۔ہم نے ماموں کے گھر جانا پسند کیا۔لہذا حضور نے ہمارے ماموں کو بلوا کر ہدایت دی کہ ان کے والد صاحب کا جو روپیہ امانت ذاتی میں ہے اس میں سے ان دونوں بہن بھائیوں کے لئے آپ۔۴۰ روپے ماہوار لے سکتے ہیں۔گھر کے سامان کی لسٹ بنا کر ایک کمرے میں بند کر دیا جائے اور باقی مکان کرایہ پر دے دیا جائے تا کہ وہ روپیہ بھی ان کے اخراجات میں کام آئے۔ہم تین سال تک اپنے ماموں کے پاس رہے۔اس کے دوران بھی حضور اکثر پتہ کرواتے رہتے کہ بچے کس حال میں ہیں باقاعدگی سے اسکول جاتے ہیں یا نہیں۔جب میرے نکاح کا معاملہ پیش ہوا تو میرے ماموں منشی نور محمد صاحب ولی مقرر ہوئے۔کیونکہ میرا بھائی چھوٹا تھا اور خورشید صاحب نے بھی اپنی طرف سے منشی نورمحمد صاحب کو ہی ولی مقرر کیا تھا کیونکہ وہ خورشید صاحب کے پھوپھا تھے اور خورشید صاحب کوئٹہ میں مقیم تھے۔جب نکاح کا فارم حضور کی خدمت اقدس میں پیش ہوا تو حضور نے فرمایا کہ منشی صاحب آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ ایک آدمی دوطرف سے ولی نہیں ہوسکتا اور میں جائز ولی ہوں۔قوم کے یتیم بچے قوم کی امانت ہوتے ہیں اور میں