سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 492
434 تقریب کو مبارک کرے۔حضرت اماں جان کے ساتھ عزیز ناصر احمد اور عزیزہ ناصرہ بیگم کو آپ کی خواہش کے مطابق بھجوا دیا گیا ہے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد میری دوسری لڑکی عزیزہ ثریا بیگم کے رشتہ کا عمدہ انتظام جناب ڈاکٹر محمد عمر صاحب ایم بی بی ایس سے خود ہی فرمایا اور خود ہی نکاح پڑھا۔یہ دونوں رشتے خدا کے فضل وکرم سے بہت بابرکت ثابت ہوئے۔۔حضرت صاحب کی یہ بھی ذرہ نوازی تھی کہ حضور متعدد مرتبہ میرے غریب خانہ پر لا ہور تشریف لاتے رہے محترم روشن دین صاحب صراف اوکاڑہ لکھتے ہیں:۔۔۔66 میں اکثر معاملات میں حضور سے مشورہ لیا کرتا تھا۔۱۹۳۰ء میں میں ایک مکان خرید نے لگا۔میں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے اس کے متعلق مشورہ کیا۔حضور نے فرمایا کہ وہ کسی کو نہیں لینے دیں گے اپنی رقم نہ پھنسا بیٹھنا۔اس مشورہ پر میں وہ مکان خرید نے سے رک گیا اور نقصان سے بچ گیا حالانکہ میں اس کا سودا کر چکا تھا اور بیعانہ دینے والا تھا۔جلسہ سالانہ اور حضور کی نہایت مؤثر و دلکش تقاریر لازم ملزوم تھیں۔یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ جلسہ سالانہ کی رونق حضور کی تقاریر کے دم سے تھی۔۱۹۴۵ء میں حضور کی علالت طبع کی وجہ سے یہ سمجھا گیا کہ اس دفعہ حضور سے ملاقات اور تقاریر سننے کی سعادت میسر نہ آسکے گی۔جماعت نے تو اس محرومی اور کمی کو محسوس کرنا ہی تھا مگر خود حضور بھی احباب جماعت سے نہ مل سکنے کی کمی کو شاید جماعت سے بھی زیادہ محسوس فرمار ہے تھے۔اخبار الفضل اس عجیب دوطرفہ محبت کے نظارے کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتا ہے:۔حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مبارک عہد خلافت کا یہ ۱۹۴۵ء کا پہلا جلسہ ہے جب کہ حضور مصلحتِ الہی کے ماتحت بوجه شدید علالت نہایت تکلیف کے ساتھ اپنے خادموں کے اجتماع میں رونق افروز ہوتے اور تکلیف کے ناقابلِ برداشت ہو جانے پر واپس تشریف لے جاتے رہے۔اگر چہ ۲۵۔دسمبر کی شام کو پرائیویٹ سیکرٹری صاحب