سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 487
429 حضرت امام جماعت الثانی کو اپنے خدام سے بڑی محبت تھی۔حضرت صاحب کی محبت کا ایک واقعہ یوں ہے کہ ایک دن آپ سیر کو تشریف لے گئے تھے۔خاکسار اور مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب بھی ساتھ تھے۔سیر سے واپسی پر آپ موٹر سے اُترے اور اپنی اقامت گاہ کی سیڑھیوں تک پہنچے تو چوہدری اسد اللہ خان صاحب نے ایک خاص دوستانہ انداز میں خاکسار سے چٹکی لی۔گویا وہ مجھے کوئی خاص بات یاد دلا رہے ہوں۔بات یہ تھی کہ وہ مجھے کئی بار حضرت صاحب سے عطر لینے کے لئے کہہ چکے تھے اور چاہتے تھے کہ میرے ذریعہ وہ حضرت صاحب تک اپنی یہ خواہش پہنچا دیں چنانچہ جونہی چوہدری صاحب نے میرے چٹکی لی تو میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب بھی از راہ شفقت خدام نوازی پر مائل ہیں۔چنانچہ میں نے عرض کیا کہ چوہدری اسد اللہ خان صاحب میرے چٹکیاں لے رہے ہیں۔آپ فرمانے لگے چٹکیاں تو محبت سے لی جایا کرتی ہیں۔چوہدری صاحب بھی آپ سے محبت ہی کا اظہار کر رہے ہوں گے۔میں نے عرض کیا میرے ساتھ محبت کے اظہار میں آپ سے عطر کے لئے درخواست ہو رہی ہے۔آپ متبسم ہوئے اور فرمایا کہ ذرا ٹھہر جائیں۔مجھے سیدہ اُمم ناصر کی خدمت میں کسی کام کے لئے بھجوایا۔میں واپس آیا تو مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب کے ہاتھ میں حضرت کی طرف سے عطا کردہ ایک عطر کی شیشی تھی۔شیشی دیکھتے ہی میں نے کہا میرا حصہ بھی دے دو۔چوہدری صاحب کہنے لگے کہ نہیں یہ تو حضرت صاحب نے مجھے ہی عنایت فرمائی ہے۔یہ بات حضرت صاحب نے بھی سن لی تو فرمایا اسی لئے تو میں نے تمہیں دوسری طرف بھجوایا تھا۔چنانچہ میں دل گرفتہ سا ہو گیا اور اسی انداز میں ہم واپس آگئے۔حضرت صاحب نے میرا چہرہ پڑھ لیا تھا گویا اسے اس محرومی کا بہت احساس ہے۔دوسرے ہی دن انجمن کے کاغذات پیش کرنے کے لئے حسب معمول میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ضروری کاغذات دکھائے ہدایات لیں اور جب واپس آنے لگا تو آپ نے فرمایا۔ذرا ٹھہر و۔چنانچہ میں رک گیا۔