سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 485 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 485

427 ۱۹۴۷ء کے خونیں انقلاب کے پُرسوز نظارے ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں قومی شیرازہ بکھر جاتا ہے درہم برہم ہوتا ہوا نظر آتا ہے جماعت پر انتہائی سراسیمگی اور پریشانی کا وقت آتا ہے مگر آج یہ اولوالعزم یہ کوہ وقار امام پھر اپنے گرد اپنے جلو میں ان پریشان فلاکت زدہ انسانوں کو، ہاں اپنے پروانوں کو مجتمع کرنے لگتا ہے۔وہ باوجود ہماری غفلت کیشیوں اور کوتاہیوں کے باوجود ہمارے کئی دفعہ غلط اقدام کے کس حوصلہ، کس عزم اپنی اور کس حسن تدبر وتد بیر کے ساتھ اور کس رافت و شفقت بھری روح کے ساتھ ہمیں اپنے پروں کے نیچے سمیٹ رہا ہے۔وہ پھر ہمیں برکت دینا چاہتا ہے وہ پھر اپنے وجد انگیز اور روح پرور کلام سے ہماری روحوں کو پاکیزگی اور بلندی بخشنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے ان کے قرب میں پھر ہمیں روح کی غذا اور ایک تسکین مسرت انگیز تسکین ملنا شروع ہوتی ہے۔وہ پھر ایک ایسی فضا پیدا کرنے کی کوشش میں ہے کہ اگر ہمیں نیت صالحہ اور عمل صالح اور اس کی کامل اتباع و اطاعت کا جذبہ رکھتے ہوئے اس فضاء میں رہنے اور سانس لینے کی سعادت نصیب ہو تو اس کی عطر بیز ہوائیں ہماری مشام جان کو معطر کر دیں گی۔ان قومی احسانات کے علاوہ جماعت کے ہزاروں افراد کی زندگیاں اس کی مرہون منت ہیں، آج ہزاروں خاندان اسی کی دعا اور توجہ اور راہنمائی کے طفیل دُنیوی عزت و راحت کی زندگی بسر کر رہے ہیں ، وہ اس کی بدولت فرش سے اُٹھ کر گویا عرش پر پہنچے ہوئے ہیں، ہزاروں افراد ذہنی اور اقتصادی پستی سے اُٹھ کر بلندی کی طرف پرواز کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، ہزاروں نا مراد با مراد اور ہزاروں افسردہ اور غمناک شاد کام ہوئے۔ہاں اس کی کرشمہ ساز دعاؤں نے ہزاروں کی دنیا بدل کر رکھ دی بلکہ ان کی جھنم کو اس دنیا میں جنت سے بدل دیا اسی وجہ سے اگر ایک طرف بعض بد نصیب اس کی ذاتِ اطہر پر نکتہ چینی کرتے ہیں تو لاکھوں اس شمع کے پروانے بھی ہیں لاکھوں سرفروش اور جانباز شیدائی بھی ہیں جو عرفان وروحانیت کی چاشنی کے ساتھ اس کے مقام ومرتبہ کی بلندشان و عظمت کو کسی قدر سمجھتے ہوئے اسکی اتباع واطاعت