سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 482 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 482

424 عورت نے ہی پورا کر دکھایا تھا اس لئے اب مردوں سے میرا ہزار کا مطالبہ ہے۔اس کے بعد میں نے چند دوسرے اشعار پڑھے جو یہ تھے مصلح موعود دے کلیے ٹھنڈ پا دیئے بلھے شاہ دے وانگ سچ پیر نو منا دیئے ہو کے ضرور رھنی فتح اسلام مصلح موعود وا میں ادنی غلام ہے صوفی علی محمد تے جنڈو وچہ مقام ہے وقف جدید وچ دتا ہویا نام بے اس پر حضور نے فرمایا کہ دیہاتیوں میں پنجابی مادری زبان ہونے کی وجہ سے پسند کی جاتی ہے ان کی نظم اور نظم پڑھنا مجھے بہت پسند ہے اور فرمایا کہ یہ نظم چھپوا کر جلسہ سالانہ میں تقسیم کی جائے چنانچہ یہ نظم چھپوا کر جلسہ پر کافی تقسیم کی گئی اور حضور نے مجھے فرمایا کہ دیہاتی جماعتوں میں جا کر یہ ضرور سنایا کریں حضور کی عنایات کو یاد کرتے ہوئے چوہدری عنایت علی صاحب زرگر گوجرہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ انہیں مجلس مشاورت میں اپنی جماعت کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔اس موقع پر نمائندگان کو لجنہ ہال میں نہایت پر تکلف دعوت دی گئی۔اور یہ کہ ایسا لذیذ واعلیٰ کھانا دیا گیا جو اس سے ماقبل و مابعد خاکسار کو وہ ذائقہ نہیں آیا خوب سیر ہو کر کھانا کھانے کے بعد چوہدری صاح کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ جسمانی خوراک کے بعد اب روحانی سکون کے لئے حضور کی ملاقات بھی میسر آ جائے۔لجنہ ہال سے باہر نکلتے ہوئے ایک طرف سبز روشنی میں جماعت کے بعض عہد یداران نظر آئے قریب جا کر دیکھا تو وہاں حضور موجود تھے۔انہوں نے اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہوئے جرات کر کے قریب جا کر حضور کا دستِ مبارک تھام کر کئی بو سے لئے اور پھر پاس کھڑے ہو کر حضور کی زیارت سے شاد کام ہوتے رہے۔مکرم ڈاکٹر عبدالرحمان احمدی کامٹی حضور کا افرادِ جماعت سے تعلق خاطر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- حضور کو جماعت کے تمام افراد سے انتہائی محبت تھی اور کسی فرد کی تکلیف سے حضور بیقرار ہو جاتے۔چنانچہ قسیم ملک کے بعد جب حضور لاہور