سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 481 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 481

423 آجائیں“ دیدار می نمائی پرهیز می کنی و بازار خویش و آتش ما نیز می کنی حضرت صاحب نے دیکھ کر فرمایا آپ کو کس نے روکا ہے اندر مرید کی طرف سے ادب واحترام اور مرشد کی طرف سے خادم نوازی کی یہ کیسی عمدہ مثال ہے۔حضور کے اس ایک فقرے سے محترم حقانی صاحب نے ساری عمر مسرت و شادمانی اور سکون واطمینان کی بے بدل دولت حاصل کی ہوگی !!! مکرم صوفی علی محمد صاحب حضور سے اپنی پہلی زندگی بخش ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : - میں احمدی ہو چکا تھا مگر ابھی تک حضور سے میری ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ستمبر ۱۹۵۸ء کو مجھے مکرمی دمحترمی مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب حضور سے ملانے کے لئے مخلہ لے گئے۔اس ملاقات میں حضور نے جس شفقت سے مجھے نوازا وہ پیار اور محبت ابھی تک میرے ذہن پر نقش ہے اس موقع پر میں نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ایک پنجابی نظم پڑھ کر سنائی (جو بعد میں ” وقف جدید اور احباب جماعت کے نام سے حضور ہی کے حکم سے دفتر وقف جدید کی طرف سے شائع کروا کر مفت تقسیم کی گئی تھی۔اپنی نظم کا جب میں نے یہ شعر پڑھا۔اک دا نہیں کم سارے ہمتاں دکھا دیئے اک اک بندہ سو سو احمدی بنا دیے تو حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اب یہ فقرہ ٹھیک نہیں۔جب میں نے کہا تھا کہ ایک ایک احمدی سو سو احمدی بنائے تو اُس وقت جماعت عہد طفلی میں تھی اب خدا کے فضل سے جماعت شباب کی حالت میں ہے۔اب میں احباب جماعت سے سو کی بجائے ہزار کی توقع رکھتا ہوں اس لئے تم اپنے شعر میں سو کی بجائے ہزار لکھو۔میں نے عرض کیا کہ حضور ہزار لکھنے سے شعر کا وزن ٹوٹ جاتا ہے ہنس کر فرمایا اچھا تم شعر میں سو پڑھ لیا کرو مگر ساتھ ہی بتا دیا کرو کہ اب میرا ہزار احمدی بنانے کا مطالبہ ہے سو کا مطالبہ تو ہماری ایک رشتہ دار